Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 695

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَأْتِيْ مَسْجِدَ قبَاءَ كُلَّ سَبْتٍ مَاشِيًا وَرَاكِبًا فَيُصَلِّيْ فِيْهِ رَكعَتَيْنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عمر قال: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يأتي مسجد قباء كل سبت ماشيا وراكبا فيصلي فيه ركعتين. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم ہرہفتہ کے دن مسجدقبا شریف میں ۱؎پیدل اورسوارتشریف لے جاتے اور اس میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎قباءایک بستی ہے،مدینہ منورہ سے تین میل دور وہاں کی مسجدکانام قباءہے۔اسی جگہ حضور علیہ السلام نے ہجرت کے دن مدینہ منورہ میں تشریف آوری سے پہلے قیام فرمایا اوریہی مسجد پہلے بنائی گئی۔قرآن کریم نے اس مسجد کے بڑے فضائل بیان کئے ہیں۔فقیرنے بارہا وہاں کی زیارت کی ہے۔
۲
؎بعض روایا ت میں ہے کہ جو مدینہ پاک سے وضوءکرکے مسجدقباجائے وہاں دونفل پڑھے تو عمرے کا ثواب پائے۔اب بھی حجاج وغیرہ ہفتہ کے دن یہ عمل کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی مسجدوں اور ان کے قیام گاہ متبرک ہیں ان کی زیارت ثواب کیونکہ مسجدقباءانصارکی مسجدہے اور وہ حضرات مقبولینِ بارگاہ تھے،وہاں پیشانیاں رگڑنا اورسجدے کرنا قبولیت کا ذریعہ ہے۔حضور خواجہ اجمیر قدس سرہ نے لاہور آکر حضرت داتا صاحب کی پائنتی چلہ کیا وہ اسی حدیث سے ماخوذ تھا۔ڈاکٹراقبال نے کیا خوب فرمایا ؂
سید ہجویر مخدوم امم مرقد اوپیرسنجر را حرم
خیال رہے کہ جہاں بزرگوں کے قدم پڑجائیں وہ جگہ تاقیامت متبرک ہوجاتی ہے۔اب قباءمیں انصارنہیں لیکن اس کی شرافت وہی ہے ؂
بگفتا من گل ناچیز بودم ولیکن مدتے باگل نشستم

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 695