Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 706

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لَا رَدَّهَا اللّٰهُ عَلَيْكَ فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لهٰذَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل: لا ردها الله عليك فإن المساجد لم تبن لهذا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جوشخص کسی کو مسجدمیں گمی چیز ڈھونڈتے سنے ۱؎تو کہہ دے خداتجھے وہ چیزواپس نہ دے کہ مسجدیں اس لیئےنہیں بنی ہیں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎چیخ کرشورمچاکرجس سے نمازیوں کی نمازوں میں خلل واقع ہو کیونکہ خاموشی سے گمشدہ چیزمسجد میں ڈھونڈھ لینا ممنوع نہیں جیسا کہ منشاء حدیث سے ظاہر ہے۔
۲
؎یعنی مسجدیں دنیاوی باتیں کرنے،شورمچانے کے لئےنہیں بنیں،یہ تو نماز اور اللہ کے ذکر کے لیےبنی ہیں۔بہتریہ ہے کہ اس شورمچانے والے کو سناکر کہے تاکہ وہ اس سے باز آجائے۔اس سے معلوم ہوا کہ مسجد میں بھیک مانگنا دیگر قسم کی دنیاوی باتیں کرنا منع ہے۔بلکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ مسجد کے بھکاری کو خیرات نہ دو کہ یہ گناہ پر مدد ہے،حضرت علی مرتضٰی نے جو نماز کی حالت میں سائل کو انگوٹھی خیرات کی وہ سائل غالبًا مسجد سے باہرہوگا یا آپ مسجد کی علاوہ کسی اور جگہ نماز پڑھ رہے ہوں گے۔خیال رہے کہ نکاح،دینی وعظ،نعت خوانی،قاضیٔ اسلام کے فیصلے یہ سب چیزیں دینی ہیں،لہذا مسجدمیں جائز ہیں۔ان کے متعلق احادیث وارد ہیں،البتہ جماعت کے وقت جب پہلی جماعت ہورہی ہو یہ کام نہ کئے جاویں تاکہ نماز میں حرج نہ ہو بعدمیں کئے جاویں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 706