Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 701

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظِلِّهٖ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهٗ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِيْ عِبَادَةِ اللّٰهِ، وَرجُلٌ قَلْبُهٗ مُعَلّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتّٰى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِيْ اللّٰهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّيْ أَخَافُ اللّٰهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتّٰى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهٗ مَا تُنْفِقُ يَمِيْنُهٗ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله: إمام عادل، وشاب نشأ في عبادة الله، ورجل قلبه معلق بالمسجد إذا خرج منه حتى يعود إليه، ورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه، ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه، ورجل دعته امرأة ذات حسب وجمال فقال: إني أخاف الله، ورجل تصدق بصدقة فأخفاها حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات شخص وہ ہیں جنہیں اللہ تعالٰی اس دن اپنے سایہ میں رکھے گا ۱؎جب اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا عادل بادشاہ ۲؎وہ جوان جو اللہ کی عبادت میں جوانی گزارے ۳؎وہ شخص جس کا دل جب سے کہ وہ مسجد سے نکلے مسجد میں لگا رہے حتی کہ مسجد میں لوٹ آئے ۴؎وہ دوشخص جو اللہ کے لیئے محبت کریں جمع ہوں تو اسی محبت پر اورجدا ہوں تو اسی پر ۵؎اور وہ شخص جوتنہائی میں اللہ کو یاد کرے تو اس کی آنکھیں بہیں ۶؎اور وہ شخص جسے خاندانی حسین عورت بلائے وہ کہے میں اللہ سے ڈرتا ہوں ۷؎اور وہ شخص جو چھپ کر خیرات کرے حتی کہ اس کا بایاں ہاتھ نہ جانے کہ داہنا ہاتھ کیا دے رہا ہے ۸؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اپنی رحمت کے سایہ میں یا عرش اعظم کے سایہ میں تاکہ قیامت کی دھوپ سے محفوظ رہیں۔
۲
؎یعنی وہ مؤمن بادشاہ اورحکام جو رعایا میں انصاف کرتے ہیں کیونکہ دنیا ان کے سایہ میں رہتی تھی،لہذا یہ قیامت میں رب تعالٰی کے سایہ میں رہے گا۔یہ ان تمام سے افضل ہے اس لئےاس کا ذکر سب سے پہلے ہوا۔عادل حکام بھی اس بشارت میں داخل ہیں۔
۳
؎یعنی جوانی میں گناہوں سے بچے اور رب کو یاد رکھے،چونکہ جوانی میں اعضاءقوی اورنفس گناہوں کی طرف مائل ہوتا ہے،اس لئےاس زمانہ کی عبادت بڑھاپے کی عبادت سے افضل ہے۴∞؎در جوانی توبہ کردن سنت پیغمبری است وقت پیری گرگ ظالم میشود پرہیزگار
صوفیاءفرماتے ہیں کہ مؤمن مسجد میں ایسا ہوتا ہے جیسےمچھلی پانی میں۔اور منافق ایسا جیسے چڑیا پنجرے میں،اسی لیےنماز کے بعد بلاوجہ فورًا مسجد سے بھاگ جانا اچھانہیں۔خدا توفیق دے تو مسجد میں پہلے آؤ اور بعد میں جاؤ،اور جب باہر رہو تو کان اذان کی طرف لگے رہیں کہ کب اذان ہو اورمسجدکوجائیں۔
۵
؎کہ جس کی محبت سے رب راضی ہو اس سے محبت کریں اور۔جس کی نفرت سے رب راضی ہو اس سے نفرت کریں،بے دین اور بدعمل اولاد سے نفرت،متقی اجنبی سے محبت عبادت ہے؎ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کآشنا باشد
یونہی گہرے دوست کی بدعقیدگی پر واقف ہوکر اس سے الگ ہوجانا اورجانی دشمن سے تقوےٰ پرخبردارہوکر اس کا دوست بن جانا بہترین عمل ہے۔
۶
؎یعنی خوف خدایا عشق جناب مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم میں روئے،تنہائی کی قید اس لئےلگائی کہ سب کے سامنے رونے میں ریاء کا اندیشہ ہے۔
۷
؎یعنی خود ایسی عورت اس سے بدفعلی کی خواہش کرے اور یہ اس نازک موقعہ پرمحض خوف خدا سے بچ جائے یہ بہت مشکل ہے اسی لئےرب تعالٰی نے یوسف علیہ السلام کے اس فعل شریف کی تعریف قرآن میں فرمائی اللہ نصیب کرے۔خیال رہے کہ ایسے نازک موقعہ پرعورت سے یہ کہہ دینا ریاءنہیں تبلیغ ہے،یعنی میں رب تعالٰی سے ڈرتا ہوں تو بھی ڈر۔
۸
؎یہاں صدقۂ نفلی مرادہے صدقۂ فرض اورچندے کے موقعہ پرصدقہ نفل علانیہ دینا مستحب ہے،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"اِنۡ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ھِی

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 701