Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 700

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادَ بَنُوْ سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَ ذٰلِكَ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ لَهُمْ: "بَلَغَنِيْ أَنَّكُمْ تُرِيْدُوْنَ أَنْ تنتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ"قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَدْ أَرَدْنَا ذٰلِكَ . فَقَالَ: "يَا بَنِيْ سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبُ آثَارُكُمْ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبُ آثَارُكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر قال: خلت البقاع حول المسجد، فأراد بنو سلمة أن ينتقلوا قرب المسجد، فبلغ ذلك النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال لهم: "بلغني أنكم تريدون أن تنتقلوا قرب المسجد"قالوا: نعم يا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قد أردنا ذلك . فقال: "يا بني سلمة دياركم تكتب آثاركم، دياركم تكتب آثاركم". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابرسے فرماتے ہیں مسجد کے اردگرد کچھ مکانات خالی ہوئے تو بنوسلمہ نے چاہا ۱؎کہ مسجد کے قریب آن بسیں ۲؎یہ خبرحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوپہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا مجھے خبرپہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب آن بسنا چاہتے ہو وہ بولے ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے یہ ارادہ تو کیا ہے فرمایا اے بنو سلمہ اپنے گھروں ہی میں رہو تمہارے نقش قدم لکھے جارہے ہیں اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نقش قدم لکھے جارہے ہیں ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ انصار کا ایک قبیلہ ہے جن کے گھرمسجدنبوی شریف سے بہت دور تھے۔
۲
؎یعنی ان لوگوں نے یہ کوشش نہ کی کہ اپنے محلے میں الگ مسجد بنالیں،بلکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز کے لئےاپنے گھرچھوڑدینا اورمحلہ خالی کردینا گواراکرلیا۔
۳
؎تمہارے نامۂ اعمال میں ثواب کے لیے کیونکہ مسجدکی طرف ہرقدم عبادت ہے یاتمہاری اس مشقت کا تذکرہ حدیث کی کتب میں اورعلماء کی تصانیف میں لکھاجائے گا،واعظین اس پر وعظ کریں گے،جوتمہارے واقعے سن کر دورسے مسجد میں آیا کریں گے،ان سب کا ثواب تمہیں ملاکرے گا۔خیال رہے کہ گھر کا مسجد سے دور ہونا متقی کے لئےباعث ثواب ہے کہ وہ دور سے جماعت کے لئےآئے گا مگر غافلوں کے لئےثواب سے محرومی کہ وہ دوری کی وجہ سے گھر میں ہی پڑھ لیا کریں گے،لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ منحوس وہ گھر ہے جس میں اذان کی آواز نہ آئے یعنی غافلوں کے لیےدوری گھرنحوست ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 700