Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 745

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَالِكٍ قَالَ: بَنٰى عُمَرُ رَحَبَةً فِيْ نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ تُسَمَّى الْبُطَيْحَاءَ، وَقَالَ: مَنْ كَانَ يُرِيْدُ أَنْ يَلْغَطَ أَوْ يُنْشِدَ شِعْرًا أَوْ يَرْفَعَ صَوْتَهٗ فَلْيَخْرُجْ إِلَى هٰذِهِ الرَّحَبَةِ. رَوَاهُ فِي "الْمُوَطَّأ".

وعن مالك قال: بنى عمر رحبة في ناحية المسجد تسمى البطيحاء، وقال: من كان يريد أن يلغط أو ينشد شعرا أو يرفع صوته فليخرج إلى هذه الرحبة. رواه في "الموطأ".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مالک سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمرنے مسجد کے گوشے میں چبوترہ بنایا تھا جسے بطیحاءکہاجاتاتھا ۱؎اور فرمایا جوباتیں کرنایاشعر پڑھنا یا شورکرنا چاہے وہ اس چبوترے کی طرف چلا جائے ۲؎(موطا)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ اس کا فرش بجری کا تھا۔بطحاءبمعنی کنکریلی زمین۔یہ جگہ مسجد کے خارجی حصّہ میں تھی نہ کہ داخلی حصّہ میں،ورنہ اس کے آداب بھی مسجدجیسے ہوتے۔
۲
؎شعر سے مراد دنیوی اشعار ہیں۔شور سے مرادبھی دنیوی باتیں اونچی آواز سے کرنا ہیں،ورنہ نعت شریف ذکربالجہرمسجد میں جائزہے۔مسلم شریف میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام ہرنمازفرض کے بعد خوب اونچی آواز سے ذکراللہ کرتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 745