Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 728

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهٖ مُتَطَهِّرًا إِلٰى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَأَجْرُهٗ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ، وَمَنْ خَرَجَ إِلَى تَسْبِيْحِ الضُّحٰى لَا يَنْصِبُهٗ إِلَّا إِيَّاهُ فَأَجْرُهٗ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاةٌ عَلٰى إِثْرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّيْنَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من خرج من بيته متطهرا إلى صلاة مكتوبة فأجره كأجر الحاج المحرم، ومن خرج إلى تسبيح الضحى لا ينصبه إلا إياه فأجره كأجر المعتمر، وصلاة على إثر صلاة لا لغو بينهما كتاب في عليين". رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرض نماز کے لئے اپنے گھر سے وضو کرکے نکلے تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کی طر ح ہے ۱؎اورجو چاشت کی نماز کے لئے نکلے کہ یہ نماز ہی اسے نکالے تو اس کا ثواب عمرہ والے کی طر ح ہے ۲؎اورنماز کے بعد دوسری نمازجس کے درمیان کوئی بیہودہ بات نہ ہو اس کیعلیینمیں تحریر ہے ۳؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ حاجی کعبہ میں جاتا ہے اور یہ مسجد میں،یہ دونوں اللہ کا گھر ہیں۔حاجی حج کا احرام باندھتا ہے اور یہ نماز کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے۔اور جیسے کہ حج خاص تاریخوں میں ہوتا ہے مگر حاجی گھر سے نکلنے سے لوٹنے تک ہروقت اجرپاتا ہے،ایسے ہی نماز کی جماعت اگرچہ خاص وقت میں ہوگی مگر نمازی کے نکلنے سے لوٹنے تک اللہ کی رحمت میں ہی رہتا ہے۔
۲
؎خیال رہے کہ نمازچاشت اور دیگرنوافل اگرچہ گھر میں افضل ہیں لیکن اگر گھر کے مشاغل بچوں کے شور کی وجہ سے مسجد میں پڑھے تو بھی بہتر،یہاں یہی مراد ہے۔بعض علماءفرماتے ہیں کہ نماز چاشت مسجد میں ہی افضل ہے،ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
۳
؎اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ فرض کے بعد متصل نفل و سنتیں پڑھے،درمیان میں دنیوی کام نہ کرے۔دوسرے یہ کہ پنجگانہ فرائض کے درمیان بھی یہ سمجھ کر گناہ سے بچے کہ میں ظاہروباطن پاک رہ کر رب کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں تو اس کا فعل "علیّین"میں لکھا جائیگا۔علیّینساتویں آسمان کے اوپر دفترہے جہاں ابرار کے نیک اعمال لکھے جاتے ہیں،چونکہ یہ اونچی جگہ واقعہ ہوا ہے اس لیےعلیّینکہلاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 728