Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 696

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللّٰهِ مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إلَى اللّٰهِ أَسْوَاقُهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أحب البلاد إلى الله مساجدها، وأبغض البلاد إلى الله أسواقها". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہ آبادیوں میں رب کو پیاری جگہ مسجدیں ہیں اور بدترین جگہ وہاں کے بازارہیں ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ مسجدوں میں اکثر ذکر اللہ کے لیےحاضری ہوتی ہے اوربازاروں میں اکثرجھوٹ،فریب،غیبت وغیرہ،اگرچہ کبھی مسجدوں میں بھی جوتی چور اوربازاروں میں بھی اولیاءاللہ چلے جاتے ہیں اسی لیےفرمایا گیا کہ تم ان لوگوں میں سے ہونا کہ جن کا جسم بازار میں اور دل مسجد میں ہے،ان میں سے نہ ہوجن کاجسم مسجد میں اور دل بازارمیں ہو۔خیال رہے کہ یہاں شہروں سے مراد عام شہر ہیں۔مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ ان سے علیحدہ ہیں۔وہاں کے تو گلی کوچے بازار وغیرہ سب خداکو پیارے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ ھٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیۡنِ"اورفرماتا ہے:"لَاۤ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ"۔کیوں نہ ہو کہ یہ محبوب کی نگریاں ہیں؎کھائی قرآن نے خاک گزر کی قسم
اس کف پاءکی حرمت پہ لاکھوں سلام

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 696