Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 732

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ، وَعَنِ الْبَيع وَالاشْتِرَاءِ فِيهِ، وَأَنْ يَتَحَلَّقَ النَّاسُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيّ.

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن تناشد الأشعار في المسجد، وعن البيع والاشتراء فيه، وأن يتحلق الناس يوم الجمعة قبل الصلاة في المسجد. رواه أبو داود والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اشعار پڑھنے ۲؎اور وہاں خرید و فروخت سے منع فرمایا ۳؎اوراس سے منع کیا کہ لوگ جمعہ کے دن مسجد میں نمازسے پہلے حلقے بناکربیٹھیں ۴؎(ابو داؤد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے دادا کا نام عبداللہ ابن عمرو ابن عاص ہے،وہ صحابی ہیں۔اس کا ذکر پہلے تفصیل سے ہوچکا۔
۲
؎اشعارسے مراد برے یا عشقیہ اشعار ہیں،حمدالہٰی،نعت مصطفوی،منافقب اولیاء،پندو نصیحت،کفارکی برائیوں کے اشعار پڑھنا جائز بلکہ سنت صحابہ ہے،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں حضرت حسان کے لئے منبر بچھواتے جس پر آپ کھڑے ہوکرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نعت اور کافروں کی ہجو کے اشعار پڑھتے اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم دعائیں دیتے۔نیزحضرت حسان اور کعب ابن زبیر مسجد نبوی میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نعت خوانی کیا کرتے تھے۔اس کی بحثانشاءالله"باب الشعراء"میں آئے گی۔
۳
؎کیونکہ یہ دنیوی کاروبارہے جومسجدوں میں ممنوع ہے۔آج کل مسجدحرام شریف میں غلافِ کعبہ اورکتب رکھ کر بیچی جاتی ہیں یہ بھی منع ہے،ہاں معتکف بحالت اعتکاف مسجدمیں بیوپار کی باتیں کرسکتا ہے وہاں مال نہیں لاسکتا۔
۴
؎اس وقت وہاں صف بناکربیٹھناچاہیئے،ہاں نماز کے بعد وعظ وغیرہ سننے کے لیے حلقے بناکربیٹھناجائز ہے کیونکہ اب نماز کا انتظارنہیں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 732