Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 738

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنْ يُصَلّٰى فِيْ سَبْعَةِ مَوَاطِنَ:فِي الْمَزْبَلَةِ، وَالْمَجْزَرَةِ، وَالْمَقْبَرَةِ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَفِي الْحَمَّامِ، وَفِيْ مَعَاطِنِ الإِبِلِ، وَفَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ اللّٰهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن ابن عمر قال: نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن يصلى في سبعة مواطن:في المزبلة، والمجزرة، والمقبرة، وقارعة الطريق، وفي الحمام، وفي معاطن الإبل، وفوق ظهر بيت الله. رواه الترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات جگہ نماز پڑھنے سے منع کیا: کوڑی،مذبح،قبرستان ۱؎،بیچ راستہ میں ۲؎اور حمام اور اونٹ بندھنے کی جگہ ۳؎اورکعبہ شریف کی چھت پر ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎کوڑی اور مذبح میں گندگیاں پھیلی ہوتی ہیں،اس لئے وہاں نمازہوگی ہی نہیں،قبرستان کا ذکر ابھی ہوچکا۔
۲
؎یعنی جہاں لوگوں کی عام گزرہو وہاں نماز نہ پڑھےکہ اس سے نمازی کو یک سوئی نہ ہوگی اورگزرنے والے کاراستہ بندہوجائے گا۔مسجد میں بھی در کے سامنے یا دروازہ کے قریب نہ پڑھےکہ اس سے آنے جانے والوں کو تکلیف ہوگی،ستون کی آڑ لے کریاگوشہ میں نماز پڑھنی چاہیئے۔
۳
؎خواہ وہاں اس وقت اونٹ بندھا ہو یا نہ کیونکہ اونٹ کے چرواہے اونٹ کی آڑ میں پیشاب کیا کرتے ہیں۔اگر اونٹ بندھا ہو تو اس کے پیشاب کرنے اور چھینٹیں پڑنے کا سخت خطرہ ہوتا ہے۔اس لئے خصوصیت سے اونٹ کا ذکر فرمایا،ورنہ ہرنجس زمین پرنماز پڑھنا منع ہے۔
۴
؎کیوں کہ وہاں بلا ضرورت چڑھنا ہی منع ہے کہ اس میں کعبۃ اللہ کی توہین ہے۔اس نمازمیں توہین شامل ہے،لہذا نمازمکروہ،یہی حکم ہرمسجد کاہے کہ اگر اس پر بالائی منزل نہ ہوتو بلاضرورت چھت پر چڑھنا منع اور وہاں نماز مکروہ۔اس ممانعت کی وجہ یہ نہیں کہ یہ جگہ کعبہ نہیں وہاں کی آسمان تک فضائے کعبہ ہے،لہذا یہ حدیث حنفیوں کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 738