Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 724

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَن عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ائْذَنْ لَنَا فِي الْاِخْتِصَاءِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَصٰى وَلَا اخْتَصٰى، إِنَّ خِصَاءَ أُمَّتِي الصِّيَامُ". فَقَالَ: ائْذَنْ لَنَا فِي السِّيَاحَةِ، فَقَالَ: "إِنْ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِ اللّٰهِ". فَقَالَ: ائْذَنْ لَنَا فِي التَّرَهُّبِ، فَقَالَ: "إِن تَرَهُّبَ أُمَّتِي الْجُلُوْسُ فِي الْمَسَاجِدِ انْتِظَارَ الصَّلَاةِ". رَوَاهُ فِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن عثمان بن مظعون قال: يا رسول الله ائذن لنا في الاختصاء، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ليس منا من خصى ولا اختصى، إن خصاء أمتي الصيام". فقال: ائذن لنا في السياحة، فقال: "إن سياحة أمتي الجهاد في سبيل الله". فقال: ائذن لنا في الترهب، فقال: "إن ترهب أمتي الجلوس في المساجد انتظار الصلاة". رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان ابن مظعون سے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ہمیں خصی ہوجانے کی اجازت دیجئے ۱؎حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوخصی ہویاخصی کرے وہ ہم میں سے نہیں ۲؎میری امت کا خصی ہونا روزے ہیں ۳؎عرض کیا کہ ہمیں خانہ بدوش ہونے کی اجازت دیجئے فرمایا میری امت کی خانہ بدوشی اللہ کی راہ میں جہاد ہے ۴؎عرض کیا ہمیں ترک دنیا کی اجازت دیجئے فرمایا میری امت کا ترک دنیا نماز کے انتظار میں مسجدوں میں بیٹھناہے ۵؎اسےشرح السنہنے روایت کیا ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مجھے اور مجھ جیسے ان مسکینوں کو جن میں نکاح کی قدرت نہیں خصی ہونے کی اجازت دیں،تاکہ ہم زنا نہ کر سکیں،یہ رب سے انتہائی خوف کی علامت ہے۔مرقاۃ نے فرمایا ان کا منشاء یہ تھا کہ ہم نکاح کے قابل نہ رہیں کیونکہ نکاح دنیاوی الجھنوں کی جڑ ہے،اللہ اللہ میں زندگی گزاریں۔
۲
؎اس لیے کہ وہ نسل انسانی بندکرتا ہے،انسان کی بقاء سے اسلام کا بقاءہے۔اس سے معلوم ہوا کہ قاطع باہ دوائیں کھانا اور کھلانا حرام ہیں،نیزعورتوں کے رحم نکال دینا یا انہیں ناقابل اولاد بنادینا بھی حرام ہے جب زنا کے لیے ہویانسل بندکرنے کے لیے۔(ازمرقاۃ)
۳
؎کیونکہ روزے سے شہوت ٹوٹتی ہے۔معلوم ہوا کہ جو لوگ نکاح نہ کرسکیں وہ اپنے کو نامرد نہ بنائیں بلکہ روزے رکھا کریں۔
۴
؎کہ مجاہد بحالت جہاد وطن بھی چھوڑ دیتا ہے اورسامان سفرساتھ لئے پھرتاہے۔معلوم ہواکہ بلاوجہ ترک وطن کرکے مارامارا پھرنا منع ہے۔عارضی طور پر دنیا کی سیروسیاحت،جیسا کہ بعض اولیاءاللہ سے مروی ہے ممنوع نہیں،رب فرماتا ہے:"قُلْ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرْضِ
۵
؎تَرَھُّبْ رَھْبٌسے بنا بمعنی خوف "کَانُوْا یَتَرَھَّبُوْنَ"۔اصطلاح میں خوف خدا میں مخلوق سے بھاگ کر پہاڑکی چوٹیوں یا گوشوں میں بیٹھ کر عبادت کرنا"تَرَھُّبْ"ہے۔اسی سے رہبانیت اورراہب بنا،یعنی نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنا ترک دنیا ہے کہ اس وقت انسان بال بچوں سے الگ ہوجاتا ہے۔گزشتہ دینوں میں ترک دنیا بڑی عبادت تھی۔ہمارے اسلام میں حرام ہے۔اسلام چاہتاہے کہ ایک ہاتھ میں دین لے ایک ہاتھ میں دنیا۔اللہ کی دی ہوئی طاقتوں کو بیکارکرنا کمال نہیں بلکہ انہیں صحیح مصرف میں خرچ کردینا کمال ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 724