Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 707

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَكَلَ مِنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذّٰى مِمَّا يَتَأَذّٰى مِنْهُ الإِنْسُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن جابر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم: "من أكل من هذه الشجرة المنتنة فلا يقربن مسجدنا؛ فإن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه الإنس". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اس بدبودار درخت سے کچھ کھائے تو ہماری مسجدکے قریب نہ آئے ۱؎کیونکہ فرشتے بھی اس سے ایذا پاتے ہیں جس سے انسان ایذا پاتے ہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جوکچی پیازیاکچا لہسن کھائے تو جب تک منہ سے بو آتی ہو تب تک کسی مسجد میں نہ آئے،لہذا حقہ پی کر،کچی مولی یا گندناکھاکربھی نہ آئے،نیز جس کے کپڑوں یا منہ سے بدبو ظاہرہومسجد میں نہ آئے،گندہ دہن کا حکم بھی یہی ہے۔خیال رہے کہ تمام دنیا کی مسجدیں حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں،لہذامَسْجِدُنَایعنی ہماری مسجد فرمانا درست ہے۔اس سے صرف مسجدنبوی مرادنہیں،جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔بعض روایا ت میں بجا ئےمَسْجِدُنَاکےاَلْمَسَاجِدُہے۔
۲
؎یعنی اگرمسجدانسانوں سے خالی بھی ہو تب بھی وہاں بدبُولے کر نہ جائے کہ وہاں رحمت کے فرشتے ہروقت رہتے ہیں اس کی بدبو سے ایذاء پائیں گے۔خیال رہے کہ مسجد کے فرشتے رحمت کے فرشتے ہیں،ان کی طبیعت نازک اوران کا احترام زیادہ ہے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ فرشتے تو ہر انسان کے ساتھ ہر وقت رہتے ہیں تو چاہیئے کہ کبھی یہ چیزیں نہ کھائے کیونکہ اللہ تعالٰی نے ساتھی فرشتوں کی طبیعت اورقسم کی بنائی ہے۔علماءفرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے کسی مجمع میں بدبو دار منہ یاکپڑے لےکر نہ جائے تاکہ لوگوں کو ایذاء نہ پہنچے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 707