Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 746

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ، فَشَقَّ ذٰلِكَ عَلَيْهِ، حَتّٰى رُئِيَ فِي وَجْهِهٖ، فَقَامَ فَحَكَّهٗ بِيَدِهٖ فَقَالَ: "إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يُنَاجِيْ رَبَّهٗ، وَإِنَّ رَبَّهٗ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْقِبلَةِ، فَلَا يَبْزُقَنَّ أَحَدُكُم قِبَلَ قِبْلَتِهٖ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهٖ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهٖ". ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهٖ فَبَصَقَ فِيْهِ، ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَقَالَ: "أَوْ يَفْعَلُ هٰكَذَا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أنس قال: رأى النبي -صلى الله عليه وسلم- نخامة في القبلة، فشق ذلك عليه، حتى رئي في وجهه، فقام فحكه بيده فقال: "إن أحدكم إذا قام في الصلاة فإنما يناجي ربه، وإن ربه بينه وبين القبلة، فلا يبزقن أحدكم قبل قبلته، ولكن عن يساره أو تحت قدمه". ثم أخذ طرف ردائه فبصق فيه، ثم رد بعضه على بعض فقال: "أو يفعل هكذا". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی جانب رینٹھ دیکھی ۱؎آپ کوناگوارگزرا حتی کہ ناگواری چہرۂ انور میں دیکھی گئی پھر اٹھے اسے اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا ۲؎فرمایا کہ تم میں سے کوئی جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے باتیں کرتا ہے اور اس کا رب اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتاہے ۳؎لہذا کوئی قبلے کی طرف ہرگز نہ تھوکے لیکن بائیں طرف یاپاؤں کے نیچے ۴؎پھراپنی چادر کا کونہ پکڑا اس میں تھوکا پھراسے مل ڈالا فرمایا یا ایسے کرے ۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قبلہ کی دیوار میں۔اس سے محراب مرادنہیں کیونکہ اس زمانہ میں مسجدوں میں محرابیں نہ تھیں،محراب حضرت عمر ابن عبدالعزیز کی بدعت ہے جبکہ ولید ابن عبدالملک کی طرف سے مدینہ کے حاکم تھے۔جہاں اب محراب النبی بنی ہے وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ تھی۔
۲
؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسجدمیں گندگی ڈالنا نبی کریم کی ناراضی کا باعث ہے۔۲دوسرے یہ کہ مسجدکو اپنے ہاتھ سے صاف کرنا حضورکی سنت ہے اسی لیے علماء ومشائخ بلکہ اسلامی بادشاہ کبھی اپنے ہاتھ سے بھی مسجدصاف کرتے تھے۔
۳
؎یعنی اس کی رحمت خاص سامنے ہوتی ہے،نیز کعبہ بھی سامنے ہے۔بعض لوگ نمازکے علاوہ بھی کعبہ کی طرف تھوکنے کو منع کرتے تھے۔
۴
؎یہ بھی وہاں جہاں مسجد کا فرش کچا یا بجری ہو جس سے تھوک کو دبایا جاسکے،پکے فرش میں قطعًا منع کہ اس میں مسجد کی گندگی ہے، ایسے موقع کے لیے اگلی ہدایت آرہی ہے۔
۵
؎یہ عمل مسجدکے پکے فرشوں اورقیمتی مصلّوں پربھی کیاجاسکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ چادر اوڑھے رہنا حضورکی سنت ہے اور نماز میں اتنا تھوڑاعمل ضرورۃً جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 746