- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 748
باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 748
نماز کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: احْتَبَسَ عَنَّا رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتّٰى كِدْنَا نَتَرَاءٰى عَيْنَ الشَّمْسِ، فَخَرَجَ سَرِيْعًا فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلّٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهٖ، فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بِصَوْتِهٖ فَقَالَ لَنَا: "عَلٰى مَصَافِّكُمْ كَمَا أَنْتُمْ"، ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَيْنَا ثُمَّ قَالَ: "أَمَا إِنِّيْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِيْ عَنْكُمُ الْغَدَاةَ، إِنِّيْ قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِيْ، فَنَعَسْتُ فِيْ صَلَاتِيْ حَتَّى اسْتَثْقَلْتُ، فَإِذَا أَنَا بِرَبِّيْ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى فِي أَحْسَنِ صُوْرَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ، قَالَ: فِيْمَ يخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَى؟ قُلتُ: لَا أَدْرِي" قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: "فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهٗ بَيْنَ كَتِفَيَّ، حَتّٰى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهٖ بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَتَجَلّٰى لِيْ كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ، قَالَ: فِيْمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلٰى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ، قَالَ: مَا هُنَّ؟ قُلْتُ: مَشْيُ الأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ حِيْنَ الْكَرِيهَاتِ، قَالَ: ثُمَّ فِيْمَ؟ قُلْتُ: فِي الدَّرَجَاتِ، قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَلِيْنُ الْكَلَامِ، وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، قَالَ: سَلْ، قَالَ: قُلتُ: اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِيْنِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِيْ، وَتَرْحَمَنِيْ، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِيْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ، وَأَسأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكُ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِيْ إِلٰى حُبِّكَ". فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوْهَاثُمَّ تَعَلَّمُوْهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيْلَ عَنْ هٰذَا الْحَدِيْثِ فَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.
وعن معاذ بن جبل قال: احتبس عنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ذات غداة عن صلاة الصبح حتى كدنا نتراءى عين الشمس، فخرج سريعا فثوب بالصلاة، فصلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وتجوز في صلاته، فلما سلم دعا بصوته فقال لنا: "على مصافكم كما أنتم"، ثم انفتل إلينا ثم قال: "أما إني سأحدثكم ما حبسني عنكم الغداة، إني قمت من الليل فتوضأت وصليت ما قدر لي، فنعست في صلاتي حتى استثقلت، فإذا أنا بربي تبارك وتعالى في أحسن صورة، فقال: يا محمد! قلت: لبيك رب، قال: فيم يختصم الملأ الأعلى؟ قلت: لا أدري" قالها ثلاثا، قال: "فرأيته وضع كفه بين كتفي، حتى وجدت برد أنامله بين ثديي، فتجلى لي كل شيء وعرفت، فقال: يا محمد! قلت: لبيك رب، قال: فيم يختصم الملأ الأعلى؟ قلت: في الكفارات، قال: ما هن؟ قلت: مشي الأقدام إلى الجماعات، والجلوس في المساجد بعد الصلاة، وإسباغ الوضوء حين الكريهات، قال: ثم فيم؟ قلت: في الدرجات، قال: وما هن؟ قلت: إطعام الطعام، ولين الكلام، والصلاة والناس نيام، قال: سل، قال: قلت: اللهم إني أسألك فعل الخيرات، وترك المنكرات، وحب المساكين، وأن تغفر لي، وترحمني، وإذا أردت فتنة في قوم فتوفني غير مفتون، وأسألك حبك، وحب من يحبك، وحب عمل يقربني إلى حبك". فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إنها حق فادرسوهاثم تعلموها". رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث حسن صحيح، وسألت محمد بن إسماعيل عن هذا الحديث فقال: هذا حديث صحيح.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں تشریف لانے میں تاخیرکی قریب تھا کہ ہم سورج دیکھ لیں ۱؎آپ تیزی سے تشریف لائے نماز کی تکبیرکہی گئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور نماز میں اختصار کیا۲؎جب سلام پھیرا تو آواز سے فرمایا اپنی جگہ بیٹھے رہو جیسے ہو،پھر ہماری طرف توجہ فرمائی پھر فرمایا میں تمہیں بتاتا ہوں کہ آج صبح مجھے تم سے کس چیز نے روکا ۳؎میں رات میں اٹھا وضو کیا جس قدرمقدر میں تھا نماز پڑھی نماز ہی میں مجھے اونگھ آگئی حتی کہ نیند غالب ہوگئی ۴؎اچانک میں اپنے رب تعالٰی کے پاس اچھی صورت میں تھا ۵؎فرمایا اے محمد ۶؎میں نے عرض کیا مولا میں حاضر ہوں فرمایا مقرب فرشتے کس میں جھگڑتے ہیں میں نے کہا مجھے نہیں خبر ۷؎یہ تین بار فرمایا فرماتے ہیں میں نے رب کو دیکھا کہ اس نے اپنا دست رحمت میرے کندھوں کے بیچ رکھا حتّٰی کہ میں نے اس کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے سینہ میں پائی ۸؎تو مجھے ہر چیز ظاہر ہوگئی اور میں نے پہچان لی۹؎پھرفرمایا اے محمد میں نے فرمایا یارب حاضر ہوں فرمایا مقرب فرشتے کس میں جھگڑتے ہیں ۱۰؎میں نے کہا کَفاروں میں فرمایا وہ کَفارے کیا ہیں میں نے عرض کیا جماعتوں کی طرف پیدل جانا،نمازوں کے بعدمسجدوں میں بیٹھنا،ناگوارحالتوں میں پورا وضوکرنا ۱۱؎فرمایا پھر کاہے میں جھگڑتے ہیں میں نے عرض کیا درجوں میں فرمایا وہ کیا چیز ہیں میں نے کہا کھاناکھلانا،نرمی سے گفتگوکرنا اورجب لوگ سوتے ہوں تو نماز پڑھنا۱۲؎فرمایا کچھ مانگ لوفرماتے ہیں میں نے عرض کیا الٰہی میں تجھ سے نیکیاں کرنا برائیاں چھوڑنا اور مسکینوں سے محبت مانگتا ہوں اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر اور جب تو کسی قوم میں فتنہ بھیجنا چاہے تو مجھے بغیر فتنے میں مبتلا کئے وفات دیدے اور میں تجھ سے تیری محبت اور جو تجھ سے محبت کریں ان کی محبت اور اس عمل کی محبت جو مجھے تیری محبت سے قریب کردے مانگتا ہوں ۱۳؎فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خواب برحق ہے یہ دعائیں یاد کرلو پھر سکھاؤ ۱۴؎(احمدوترمذی)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے میں نے محمد ابن اسماعیل سے پوچھافرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔
شرح حدیث
۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام نہ نماز کے لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو جگاتے تھے نہ حضور کے بغیرنماز پڑھتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ ان کے ساتھ کی قضاء ان کے بغیر اداسے افضل ہے۔وہ یہ بھی جانتے تھے کہ حضور کا سونا رب کی طرف سے ہے اور آپ کی خواب وحی اورنماز کے وقت بیدار نہ ہونے میں رب کی لاکھوں حکمتیں ہیں،آپ کی نیند تمام عالم کی بیداریوں سے کروڑوں گنا افضل ہے۔
۲؎یعنی وقت کی تنگی کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔معلوم ہوا کہ ایسے موقعہ پرنماز کے لیے بھاگ کر آنا جائز ہے۔رکوع پانے کے لیے بھاگنا منع لہذا یہ حدیث ممانعت کے خلاف نہیں،نیز تنگ وقت میں فجرمیں بھی قرأت مختصر کرنی چاہیئے۔
۳؎سبحان الله!صحابہ کا خیال بالکل درست نکلا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو غفلت نماز سے نہیں روکتی بلکہ رب کی طرف توجہ۔
۴؎اورہم نماز تہجد ختم کرکے سوگئے،یہ مطلب نہیں کہ نماز میں سوگئے۔
۵؎اس کی شرح پہلے گزر گئی۔خیال رہے کہ یا یہ وہی واقعہ ہے جو پہلے مذکور ہوا یا وہ معراج کا واقعہ تھا اور یہ خواب کا۔
۶؎خیال رہے کہ رب نے قرآن شریف میں حضور کو نام لے کر کہیں نہ پکارا ہر جگہ القاب ہی سے پکارا تاکہ قرآن پڑھنے والے اس طرح پکارنے کی جرأت نہ کریں۔یہ رازونیاز کا موقعہ تھا رب نے اظہار کرم کے لیے نام سے پکارا۔
۷؎کیونکہ اب تک تو نے مجھے اس کا علم نہیں دیا۔اس کی شرح ابھی پہلی فصل میں گزر چکی۔
۸؎ہاتھ اور پوروں کے وہ معنی ہیں جو رب کی شان کے لائق ہیں،یعنی رحمت،قدرت توجہ کا ہاتھ کہا جاتا ہے فلاں کام میں حکومت کا ہاتھ ہے یعنی اس کا کرم و توجہ ہے۔ٹھنڈک پانے کا مطلب یہ ہے کہ رحمت کا اثر دل پرپہنچا۔
۹؎اس کی شرح گزر چکی،یعنی علوی اورسفلی عالم غیب وشہادت کا ہرذرہ مجھ پرفقط منکشف ہی نہ ہوا بلکہ میں نے ہر ایک کو الگ الگ پہچان لیا۔علم اور معرفت میں بڑا فرق ہے،مجمع پرنظرڈال کر جان لینا کہ یہاں دو لاکھ آدمی بیٹھے ہیں یہ علم ہے اور ان میں سے ہر ایک کے سارے حالات معلوم کرلینا معرفت۔اس سے چندمسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا علم کلّی سارے عالم کو گھیرے ہوئے ہے۔دوسرے یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ علم کسبی نہیں بلکہ لدنّی ہے۔تیسرے یہ کہ آپ کا علم وہدایت قرآن پر موقوف نہیں،آپ نزول قرآن سے پہلے ہی عالم و عامل تھے۔چوتھے یہ کہ تجلی اورہے بیان کچھ اور۔یہاں حضورکو ہرچیز دکھائی گئی اور قرآن میں بتائی گئی اسی لئے یہاں تجلی ارشاد ہوا اور وہاں فرمایا گیا"تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ"۔لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب ساری چیزیں سرکارکو آج دکھادی گئیں تو نزول قران سے کیا فائدہ۔
۱۰؎پہلی بار یہ سوال حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو علم یعنی آمادہ کرنے پر تھا اور اب یہ سوال سکھا کر امتحان لینے کے لیے،تاکہ معلوم ہو کہ محبوب سیکھ کر بھول نہ گئے،وہ سکھانے والا کامل اور یہ سیکھنے والا بھی کامل۔خیال رہے کہ بڑے شاگرد کو استاد ہی پڑھایا کرتے ہیں۔
۱۱؎ان سب کی شرحیں ابھی گزر چکیں۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ مسجدکو پیدل چلنا بہتر،یوں تو وضو ہمیشہ ہی پورا کرنا چاہیے مگر سردیوں میں خصوصًا جب کہ پانی بھی ٹھنڈا ہوصحیح وضوکرنا بہت ثواب ہے۔
۱۲؎اس کی شرح بھی گزرگئی۔بعض بزرگوں کے آستانوں پرجولنگر ہوتے ہیں جہاں سے ہمیشہ لوگوں کو کھانا ملتا ہے،اس کی اصل یہ حدیث ہے۔مسلمانوں سے نرم کلام اورکفارومنافقین سے سخت کلام ثواب ہے،رب فرماتا ہے:"وَاغْلُظْ عَلَیۡہِمْ"۔لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔
۱۳؎ان تمام کی شرحیں ابھی گزر گئیں،اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ دیتا رب ہی ہے مگر وہ چاہتاہے کہ بندہ مجھ سے مانگے تو دوں،یہ مانگنا ہماری بندگی کی نشانی ہے۔اس لئے فرمایا کہسَلْمحبوب کچھ مانگو۔دوسرے یہ کہ ہم تو گناہ ہی کریں گے رب کی توفیق ہو تو نیکی کرسکتے ہیں،پتھرخودنیچے گرے گا کوئی پھینکے تو اوپر جائے گا۔خیال رہے کہ یہ سب دعائیں ہمیں سکھانے کے لیے ہیں ورنہ حضور کو یہ ساری نعمتیں پہلے ہی سے حاصل ہیں،نیز جو اللہ سے محبت کرنا چاہے وہ اس کے پیاروں سے محبت کرے۔
۱۴؎یعنی خود بھی سیکھو اوروں کوبھی سکھاؤ کیونکہ یہ سب خوابیں تمہاری خاطر ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 748