Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 752

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهٖ بِصَلَاةٍ، وَصَلَاتُهٗ فِيْ مَسْجِدِ الْقَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَّعِشْرِينَ صَلَاةً، وَصَلَاتُهٗ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِيْ يُجَمَّعُ فِيهِ بِخَمْسِ مِائَةِ صَلَاةٍ، وَصَلَاتُهٗ فِي الْمَسْجِدِ الأَقْصٰى بِخَمْسِيْنَ أَلْفِ صَلَاةٍ، وَصَلَاتُهٗ فِي مَسْجِدِيْ بِخَمْسِيْنَ أَلْفِ صَلَاةٍ، وَصَلَاتُهٗ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بِمِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

وعن أنس بن مالك قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "صلاة الرجل في بيته بصلاة، وصلاته في مسجد القبائل بخمس وعشرين صلاة، وصلاته في المسجد الذي يجمع فيه بخمس مائة صلاة، وصلاته في المسجد الأقصى بخمسين ألف صلاة، وصلاته في مسجدي بخمسين ألف صلاة، وصلاته في المسجد الحرام بمائة ألف صلاة". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کی نماز اپنے گھر میں ایک نماز ہے اور قبیلے کی مسجد میں پچیس نمازیں اور جس مسجد میں جمعہ پڑھا جاتا ہے اس میں ایک نماز پانچ سو نمازیں اور مسجد اقصٰے میں ایک نماز پچاس ہزارنمازیں اور میری مسجد میں ایک نماز پچاس ہزار نمازیں اور مسجد حرام میں ایک نماز ایک لاکھ نمازیں ہیں ۱؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎مرقاۃ نے فرمایا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ گھر کی ایک نماز کا ثواب ایک نماز کے برابر ہے،اور محلہ کی مسجد میں ایک نماز کا ثواب گھر کی پچیس نمازوں کے برابر اور جامع مسجد کی ایک نماز محلہ کی مسجد کی پانچسو نمازوں کے برابر،اورمسجد بیت المقدس جو اسلام کا پہلا قبلہ تھی وہاں کی ایک نماز جامع مسجد کی پچاس ہزارنمازوں کے برابر،اور مسجد نبوی شریف کی ایک نماز بیت المقدس کی پچاس ہزار نمازوں کے برابر اور بیت اللہ شریف کی ایک نماز مسجد نبوی کی ایک لاکھ نمازوں کے برابر۔مگر خیال رہے کہ یہ ثوابوں کا بڑا فرق ہے،رہی مقبولیت اور قرب الٰہی اس کا یہ حال ہے کہ مسجدنبوی کی ایک نماز بیت اللہ شریف کی پچاس ہزارنمازوں کے برابر اسی لیے مہاجرین وانصارمسجد نبوی کی نمازکو دل وجان سے پسند کرتے تھے۔شعر
مہاجر چھوڑ کر کعبہ بسے آکر مدینہ میں مدینہ ایسی بستی ہے مدینہ ایسی بستی ہے
معلوم ہوا حضور کے قریب عبادات کا ثواب بڑھ جاتا ہے،اسی لیے مسجد نبوی میں صف کا بایاں حصہ داہنے سے افضل ہے کیونکہ وہ روضۂ پاک سے قریب ہے۔خیال رہے کہ تاقیامت نمازوں کا یہ حال ہے مگر حضورکے پیچھے نمازوں کا ثواب اورمقبولیت ہمارے اندازے سے باہر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 752