Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 753

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ: "الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ" قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: "ثُمَّ الْمَسْجِدُ الأَقْصٰى". قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: "أَرْبَعُوْنَ عَامًا، ثُمَّ الْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ فَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي ذر قال: قلت: يا رسول الله! أي مسجد وضع في الأرض أول؟ قال: "المسجد الحرام" قال: قلت: ثم أي؟ قال: "ثم المسجد الأقصى". قلت: كم بينهما؟ قال: "أربعون عاما، ثم الأرض لك مسجد فحيثما أدركتك الصلاة فصل". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ زمین میں پہلے کون سی مسجد بنائی گئی فرمایا مسجد حرام ۱؎فرماتے ہیں میں نے کہا پھر کون سی فرمایا پھرمسجد اقصے ۲؎میں نے کہا ان کے درمیان کتنا فاصلہ تھا فرمایا چالیس سال ۳؎اب ساری زمین تمہارے لئے مسجدہے جہاں نماز کا وقت آجائے وہاں پڑھ لو۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ آدم علیہ السلام نے بحکم خداوندی حضرت جبرئیل کے عرض کرنے پر زمین پر آتے ہی یہ مسجد بنائی۔
۲
؎اقصٰی کے معنی ہیں بہت دور چونکہ بیت المقدس کی مسجد کعبہ معظمہ اور مدینہ طیبہ سے بہت دور ہے اس لیئے اقصٰی کہلاتی ہے۔
۳
؎خیال رہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی اورحضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد نہ رکھی بلکہ پہلی بنیادوں پرعمارتیں بنائیں۔ان دوپیغمبروں کے درمیان ایک ہزار سال سے زیادہ فاصلہ ہے۔اس حدیث میں یا تو ان دونوں مسجدوں کی بنیادوں کا ذکر ہے کہ آدم علیہ السلام نے تو بہ قبول ہوتے ہی کعبۃ اللہ کی بنیاد ڈالی،پھرچالیس سال کے بعد جب آپ کی اولاد بہت ہوگئی اور پھیل گئی تو ان میں سے کسی نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی۔بعض روایات میں ہے کہ خود آدم علیہ السلام نے ہی کعبہ کے چالیس سال بعد بیت المقدس کی بنیاد رکھی یا کوئی خاص تعمیر مراد ہے،جیساکہ بعض روایات میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کعبہ کے چالیس سال بعد یعقوب علیہ السلام نے بیت المقدس کی تعمیر کی۔یہاں مرقاۃ نے بناء کعبہ پرمفصل گفتگو کی ہے۔بہرحال اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ کعبہ بنائے ابراہیمی ہے اور بیت المقدس بناءسلیمانی،ان دونوں بزرگوں میں ہزار برس سے زیادہ فاصلہ ہے تو ان تعمیروں میں چالیس سال کا فاصلہ کیسے ہوا جیسا کہ منکرین حدیث کو غوطہ لگا۔
۴
؎یعنی اسلام میں ہرجگہ نمازجائز ہے۔مذبح،مقبرہ وغیرہ میں نماز ممنوع ہونا ایک عارضہ کی وجہ سے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 753