Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 718

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيْدِ الْمَسَاجِدِ" قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارٰى. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما أمرت بتشييد المساجد" قال ابن عباس: لتزخرفنها كما زخرفت اليهود والنصارى. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مجھے مسجدوں کی ٹیپ ٹاپ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ۱؎حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تم لوگ یہودیوں اور عیسائیوں کیطرح مسجدوں کو سنوارو گے۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے مرادناجائز آراستگی ہے،جیسے فوٹوؤں اورتصویروں سے سجانایافخریہ آرائش مراد ہے جو اللہ تعالٰی کے لیے نہ ہو۔بہر حال جائز زینت جو اخلاص کے ساتھ ہوباعث ثواب ہے۔
۲
؎یعنی جیسے عیسائی،یہودی اپنی عبادت گاہوں کوفوٹوؤں اورقد آدم آئینوں سے سجاتے ہیں،قیامت کے قریب مسلمان بھی مسجدوں کو ان سے آراستہ کریں گے،ورنہ مسجدکی زینت سنت صحابہ ہے۔چنانچہ عمر فاروق نے مسجدنبوی شریف کو مزین کیا،پھرعثمان غنی نے اس کی دیواریں چونے گچ سے خوب نقْشیں بنائیں،چھت میں ساگوان لکڑی لگائی،حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس میں اتنی روشنی کی تھی کہ اس میں عورتیں تین میل تک چرخہ کات لیتی تھیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"جاء الحق"میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 718