- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 691
باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 691
نماز کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زيدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الحَجَبِيُّ وَبِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ، وَمَكَثَ فِيهَا، فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِيْنَ خَرَجَ: مَاذَا صَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: جَعَلَ عَمُوْدًا عَنْ يَسَارِهٖ، وَعَمُوديْنِ عَنْ يَمِينِهٖ، وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهٗ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلٰى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، ثُمَّ صَلّٰى. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل الكعبة هو وأسامة بن زيد وعثمان بن طلحة الحجبي وبلال بن رباح فأغلقها عليه، ومكث فيها، فسألت بلالا حين خرج: ماذا صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: جعل عمودا عن يساره، وعمودين عن يمينه، وثلاثة أعمدة وراءه، وكان البيت يومئذ على ستة أعمدة، ثم صلى. متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمر سے(رضی اللہ عنہما) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسامہ ابن زید، اورعثمان ابن طلحہ حجبی اور بلال ابن رباح ۱؎کعبہ میں داخل ہوئے اور آپ پرکعبہ بندکرلیا ۲؎اس میں کچھ ٹھہرے جب تشریف لائے تو میں نے بلال سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیاکیا تو فرمایا ایک ستون اپنے بائیں اور دوستون اپنے دائیں اور تین ستون اپنے پیچھے رکھے کعبہ اس دن چھ ستونوں پر تھا پھرنماز پڑھی۳؎(مسلم، بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎آپ عبدری قرشی حجبی ہیں،قبیلہ بنی شیبہ سے ہیں،کعبہ شریف کے کلید بردارہیں،فتح مکہ کے دن حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کعبہ کی چابی دے کر فرمایا "خُذْھَا خَالِدَۃً تَالِدَۃً" یعنی یہ چابی لو اب یہ ہمیشہ تمہارے پاس ہی رہے گی،چنانچہ اب تک کعبہ کی چابی انہیں کی اولاد میں ہے اوران شاءاللهتاقیامت رہے گی کہ نہ کبھی ان کی نسل ختم ہوگی اور نہ کوئی ظالم بادشاہ ان سے چھین سکے گا، یزید اور حجاج جیسے ظالموں نے بھی اس چابی کو ہاتھ نہ لگایا، ۴۲ھمیں وفات پائی۔
۲؎حضرت بلال نے یاعثمان نے اندرسے کنڈی لگالی تاکہ لوگوں کا ہجوم نہ ہوجائے اس لئےنہیں کہ بغیرکعبہ بند کئے اس میں نمازجائز نہ تھی جیسا کہ شوافع نے سمجھا۔
۳؎یعنی دروازہ کعبہ سے داخل ہوکر سامنے والی دیوارکے قریب پہنچے حتی کہ تین ستون پیٹھ کے پیچھے رہ گئے اور وہ دیوار قریب ہوگئی،پھرنماز پڑھی۔اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہےسیدنا بلال آنکھوں دیکھا واقعہ بتارہے ہیں،یہ واقعہ فتح مکہ کے دن ہی کاہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کعبہ میں ہرنمازجائزہے فرض ہویانفل،یہی حنفیوں کا مذہب ہے،امام مالک کے ہاں کعبہ میں نفل جائز ہیں فرض نہیں،اما م شافعی کے ہاں اگر دروازۂ کعبہ کھلا ہوتو دروازہ کی طرف منہ کرکے نمازجائزنہیں مگر امام اعظم کا قول بہت قوی ہے اور یہ حدیث اس کی پوری تائید کرتی ہے کہ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی اورکسی نماز و جگہ کی قید نہ لگائی کہ کعبہ میں فلاں نماز یا فلاں حصّہ میں نمازجائز نہیں۔لطیفہ:مرقاۃ نے فرمایا عثمان ابن طلحہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ وہجرت سے پہلے میں پیر اورجمعرات کو کعبہ کھولا کرتا تھا۔ایک روزحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میرے لیےآج کعبہ کھول دو میں نے آپ کی بڑی بے ادبی کی مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بردباری فرمائی اور فرمایا کہ اے عثمان! عنقریب وہ وقت آرہا ہے کہ تم یہ چابی میرے ہاتھ میں دیکھو گے جسے چاہوں دوں۔میں بولا کہ اگر ایسا ہوا تو قریش ہلاک ہوجائیں گے اورکعبہ ذلیل ہوجائے گا،فرمایا نہیں رب کعبہ کی قسم!کعبہ کو اسی دن عزت ملے گی مگر مجھے یقین ہوگیا کہ ایسا ہوکر رہے گا کیونکہ اس زبان کی بات خالی نہیں جاتی حتی کہ جب حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم عمرہ قضاء کے لیے بیت اللہ شریف ذیقعدہ ۷ھمیں تشریف لائے اور میں نے آپ کی سج دھج دیکھی تو میرے قلب کا حال بدل گیا دل میں ایمان آگیا،موقعہ ڈھونڈا مگر خدمت میں حاضر نہ ہوسکاحتی کہ آپ مدینہ واپس ہوگئے مگر میرا یہ حال تھاوہ دکھا کے شکل جو چل دیئےتو دل ان کے ساتھ رواں ہوا
نہ وہ دل ہے اور نہ وہ دلربا رہی زندگی سو وہ بار ہے
ایک روز دل بہت بے چین ہوا تو اندھیرے منہ مکہ سے بھاگا،راستہ میں خالد ابن ولید اورعمرو ابن عاص سے ملاقات ہوئی ان کا حال بھی میرا ہی ساتھا۔چنانچہ ہم تینوں مدینہ منورہ حاضرہوئے اور دست اقدس پربیعت کرکے مسلمان ہوگئے،پھرفتح مکہ کے دن جوکہ رمضان ۸ھمیں ہوا ہم تینوں حضور انور کے ساتھ ہی مکہ آئے تب مجھ سے حضورعلیہ السلام نے چابی منگائی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ چابی مجھے دے دی جائے،میں ڈر کی وجہ سے چابی مانگ نہ سکا،مجھے وہ واقعہ یادتھا اور میں سمجھتا تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے مقابلہ میں مجھ غیرکی کیا حیثیت ہے مگر کرم خسروانہ کے قربان،فرمایا:اے عبا س! اگر تم اللہ اور رسول پر ایمان لائے ہو تو چابی مجھے دو،چابی لے کر فرمایا:عثمان کہاں ہیں ؟ میں بولا حضور حاضر،فرمایا لو یہ چابیاں ہمیشہ تم میں رہے گی اس بنا پر یہ آیت اتری:"اِنَّ اللهَ یَاۡمُرُکُمْ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَھۡلِہَا"پھر زندگی بھر یہ چابی عثمان کے پاس رہی،وفات کے وقت انہوں نے اپنے بھائی شیبہ ابن عثمان کو عطاکی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 691