Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 712

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ فِيْ مَرَضِهِ الَّذِيْ لَمْ يَقُمْ مِنْهُ: "لَعَنَ اللّٰهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال في مرضه الذي لم يقم منه: "لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس سے اٹھے نہیں ۱؎فرمایا کہ یہود ونصارٰی پرخدا لعنت کرے انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو سجدہ گا بنالیا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مرض وفات شریف میں،لہذا یہ حدیث محکم ہے منسوخ نہ ہوئی۔
۲
؎اس طرح کہ ان کی قبروں کی طرف سجدہ کرنے لگے،بلکہ بعض انہی قبروں کو پوجنے لگے،یہ دونوں فعل شرک ہیں یا ان کی قبروں کو مسمار کرکے فرش مسجد میں داخل کرلیا،اوراس پرکھڑے ہوکرنماز پڑھنے لگے یہ بھی حرام ہے کہ اس میں قبر کی توہین ہے۔خیال رہے کہ بزرگوں کے آستانوں کے برابر مسجد بنانا اور برکت کے لئےوہاں نمازیں پڑھنا،قرآن شریف اوربہت احادیث سے ثابت ہے،سورۂ کہف میں ہے:"لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسْجِدًا"یعنی مسلمانوں نے کہا کہ ہم اصحاب کہف کے غار پرمسجد بنائیں گے۔حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے روضۂ انور اوراکثر صحابہ کے مزارات کے پاس مسجدیں ہیں،یہ خود صحابہ یا صالحین نے بنائیں۔اب مزارات اولیاءاللہ کے پاسعامۃ المسلمینمسجدیں بناتے ہیں،مقبولوں کے قرب میں نماز زیادہ قبول ہوتی ہے۔مسجدنبوی میں ایک نماز کا ثواب پچاس ہزار ہے حضور انور کے قرب کی وجہ سے۔رب تعالٰی نے گنہگاروں اسرائیلیوں سے فرمایا تھا:"اُدْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ" یعنی بیت المقدس کے دروازے میں سجدہ کرتے گھسو اور وہاں جاکرتوبہ کرو،قبورانبیاءکی برکت سے توبہ قبول ہوگی۔زکریا علیہ السلام کا واقعہ بیان فرماتا ہے:"هُنَالِكَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہ"وہاں بی بی مریم کے پاس کھڑے ہوکر زکریا علیہ السلام نے بیٹے کی دعا مانگی۔ان آیات سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے قرب میں توبہ اوردعا بہت قبول ہوتی ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ قبر پرکھڑے ہوکرنماز پڑھنا منع ہے لیکن اگرقبر پر ڈاٹ لگا کراوپرفرش بنایا جائے تو وہاں بلاکراہت جائزہے۔چنانچہ کعبۃ اللہ کے مطاف میں ۷۰نبیوں کے مزارات ہیں جن پر طواف و نماز ہوتے ہیں،نیز کعبہ کے پرنالے کے نیچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا مزارشریف ہے جہاں دن رات نمازیں پڑھی جاتی ہیں وہاں یہی وجہ ہے۔(مرقاۃ و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 712