Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 729

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوْا" قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: "الْمَسَاجِدُ". قِيلَ: وَمَا الرَّتْعُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: "سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا مررتم برياض الجنة فارتعوا" قيل: يا رسول الله وما رياض الجنة؟ قال: "المساجد". قيل: وما الرتع يا رسول الله؟ قال: "سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہی حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم جنت کے باغوں سے گزروں تو کچھ چرلیا کرو ۱؎عرض کیا گیا کہ حضور جنت کے باغ کیا ہیں؟ فرمایا مسجدیں عرض کیا گیا چرنا کیا ہے یارسول اللہ؟ فرمایاسُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُکہنا ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر تم مسجدوں میں نماز کے لئے نہ بھی جاؤ بلکہ ویسے ہی وہاں سے گزر جاؤ تب بھی کچھ پڑھ لیا کرو کیونکہ باغ میں جا کر بغیر کچھ کھائے واپس آنا محرومی ہے،خصوصًا جب کہ باغ کا مالک سخی ہو۔
۲
؎جنت میں جسمانی غذائیں ہوں گی اور نہ مٹنے والے میوے جن پرکوئی روک ٹوک نہیں ایسے ہی مساجد میں اللہ کے ذکر کی روحانی غذائیں ہیں جن کے لیے فنا نہیں اسی لیے سیدناعلی مرتضی فرماتے ہیں کہ اگر رب مجھے جنت اور مسجد میں جانے کا اختیار دے تو میں جنت کی بجائے مسجد کو اختیار کروں۔علماء فرماتے ہیں کہ جو شخص اس وقت مسجد میں جائے جب نفل مکروہ ہوتے ہیں تو یہ کلمات پڑھ لےان شاءاللهتحیۃ المسجد کا ثواب پائے گا۔ایک حدیث میں ہے کہ معراج کی رات ابراہیم علیہ السلام نے حضور علیہ السلام سے عرض کیا کہ اپنی امت سے میرا سلام کہنا اورفرمانا کہ جنت کی بہت سی زمین خالی پڑی ہے اس میں بوٹے لگا کر آؤ،وہاں کے بوٹے یہ کلمات ہیں"سُبْحَانَ الله"الخ۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 729