Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 692

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "صَلَاةٌ فِيْ مَسْجِدِيْ هٰذَاخَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "صلاة في مسجدي هذاخير من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں میں ہزارنمازوں سے بہترہے سوائے مسجدحرام کے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسجدنبوی کی ایک نماز سوائے کعبۃ اللہ کے باقی تمام جہاں کی مسجدوں کی ہزارنمازوں سے بہتر ہے۔خیال رہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد صرف وہی نہیں ہے جوحضور علیہ السلام کے زمانہ میں تھی بلکہ بعدمیں جو اس میں زیادتیاں کی گئیں وہ سب حضورعلیہ السلام کی مسجد ہی کہلائیں گی اور اس کے ہرحصہ میں نماز پنجگانہ کا یہی درجہ ہوگا اگرچہ اس حصہ میں جو زمانۂ نبوی میں مسجدنہ تھا۔خصوصًا جنت کی کیاری میں نمازافضل ہے،نیز جس قدر روضۂ اطہر سے قرب زیادہ ہوگا اسی قدر ثواب زیادہ کیونکہ حضور علیہ السلام کے قرب ہی کی تو ساری بہارہے۔خیال رہے کہ مسجدنبوی کی نماز ثواب میں بیت اللہ شریف کی نماز سے اگرچہ کم ہو مگر درجہ اورتقرّب میں وہاں کی نماز سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہاں کعبہ سے قرب ہے اوریہاں ان سے قرب ہے جنہوں نے کعبہ کوقبلہ بنادیا۔اسی لئےفتح مکہ کے بعدبھی مہاجرین وانصارمدینہ ہی میں رہے اوریہیں کی نمازوں کو دل وجان سے قبول کیا۔مرقاۃ نے فرمایا کہ صرف نماز کے لیےزیادتی نہیں ہے بلکہ مدینہ کی ہرعبادت کا یہی حال ہے۔قاضی عیاض،ملا علی قاری،شامی وغیرہم فرماتے ہیں کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کا اندرونی حصہ جو جسم اطہر سے مس ہے وہ کعبہ معظمہ وعرش اعظم سے بھی افضل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 692