Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 751

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ ابْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَسْتَحِبُّ الصَّلَاةَ فِي الْحِيْطَانِ. قَالَ بَعْضُ رُوَاتِهٖ: يَعْنِي الْبَسَاتِيْنَ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ لَا نَعْرِفُهٗ إِلَّا مِنْ حَدِيْثِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِيْ جَعْفَرٍ، قَدْ ضَعَّفَهٗ يَحْيَى بْنُ سَعِيْدٍ وَغَيْرُهٗ.

وعن معاذ ابن جبل قال: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يستحب الصلاة في الحيطان. قال بعض رواته: يعني البساتين، رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث الحسن بن أبي جعفر، قد ضعفه يحيى بن سعيد وغيره.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باغوں میں نماز پڑھنا پسند فرماتے تھے ۱؎بعض راویوں نے فرمایا یعنی بساتین۲؎(احمد،ترمذی)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حسن ابن ابی جعفر کی حدیث سے ہی جانتے ہیں،انہیں یحیی ابن سعید وغیرہ نے ضعیف کہا۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نفل نماز دیواروں کے پیچھے یا باغوں میں بہتر جانتے تھے تاکہ باغوں میں رہنے والے بے تکلف نوافل بلکہ ضرورۃً فرائض پڑھ سکیں ورنہ فرائض مسجد میں افضل ہیں۔
۲
؎یعنی حدیث میں جوحیطانآیا یہحائطہکی جمع ہےحائطہدیوار کو بھی کہتے ہیں اور باغ کو بھی کیونکہ وہ دیوار سے گھرا ہوتا ہے،یہاں باغ کے معنی میں ہیں۔
۳
؎ابوحاتم کہتے ہیں کہ حسن مقبول الدعاء اور بڑے عابد تھے لیکن عبادات میں زیادہ مشغولیت کی وجہ سے حفظ حدیث میں کوتاہی پیدا ہوگئی تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 751