Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 739

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "صَلُّوْا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوْا فِيْ أَعْطَانِ الإِبِلِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "صلوا في مرابض الغنم، ولا تصلوا في أعطان الإبل". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بکریوں کے بندھنے کی جگہ نماز پڑھو اور اونٹ بندھنے کی جگہ نماز نہ پڑھو ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ بکریوں کی جگہ اکثر ناپاک نہیں ہوتی کہ وہاں بکریوں والے پیشاب نہیں کرتے،نیز دوران نماز چھنٹیں آنے کا اندیشہ کم ہوتا ہے کیونکہ بکری نیچی ہے،نیز پیشاب کرتے وقت اوربھی جھک جاتی ہے اور بکری کے کھل جانے کی صورت میں نمازی کے کچلے جانے کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا،یہ وجوہ اونٹ کے طویلہ میں نہیں،لہذا وہاں نماز نہ پڑھی جائے۔خیال رہے کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بکری کے طویلہ میں مصلّے بچھاکرنماز پڑھ سکتے ہو،اونٹ کے طویلہ میں کسی طرح نہیں۔بعض کہتے ہیں کہ اونٹ کی پیدائش شیطان سے ہے لہذا اس کے پاس نماز منع ہے مگر یہ غلط کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے خود اونٹ پر نفل پڑھے ہیں۔اونٹ مبارک جانور ہے نبیوں کی سواری ہے،اس کا گوشت کھایا اوردودھ پیاجاتاہے،سواری اورسامان ڈھونے میں کام آتا ہے۔اس کے ہر عضو میں بے شمار فائدے ہیں،کھال کے برتن اوربال کے قیمتی قالین بنتے ہیں،نہایت معمولی غذا کھا کر بہترین خدمات پیش کرتا ہے۔اسی لیے خدائے قدوس نے اسے نشان قدرت بتایاکہ فرمایا:"اِلَی الْاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتْ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 739