Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 742

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْلُ: "مَنْ جَاءَ مَسْجِدِيْ هٰذَا لَمْ يَأْتِهٖ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهٗ أَوْ يُعَلِّمُهٗ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذٰلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلٰى مَتَاعِ غَيْرِهٖ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".

عن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "من جاء مسجدي هذا لم يأته إلا لخير يتعلمه أو يعلمه فهو بمنزلة المجاهد في سبيل الله، ومن جاء لغير ذلك فهو بمنزلة الرجل ينظر إلى متاع غيره". رواه ابن ماجه والبيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو میری اس مسجد میں آئے مگر نہ آئے سوائے بھلائی سیکھنے یا سکھانے تو وہ غازی فی سبیل اللہ کے درجے میں ہے ۱؎اورجو اس کے سواکسی کام کے لئے آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو دوسرے کا مال تکے۲؎(ابن ماجہ)اوربیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔

شرح حدیث

۱؎یعنی مسجدنبوی شریف میں علم دین سیکھناسکھانا دوسر ی جگہ سیکھنے سکھانے سے افضل ہے،جیسے یہاں کی ایک نمازپچاس ہزارکے برابر،ویسے ہی یہاں کا ایک سبق پڑھنا پڑھاناپچاس ہزاراسباق کے برابر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کی برکت سے اسی لیے بعض علماء مسجد نبوی شریف میں وعظ کہنے اور درس دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مسجدوں میں علم دین کے مدرسے جائز ہیں،امام بخاری نے حرم شریف میں بخاری لکھی۔
۲
؎یعنی جیسے وہ تکنے والا خیرسے محروم ہے،ایسے ہی یہ خیر سے محروم۔خیال رہے کہ یہاں خیر سے مرادکوئی دنیوی کام ہے،یعنی جومسجدنبوی شریف میں فقط عمارت یارونق دیکھنے کے لیے جائے کسی عبادت کی نیت نہ کرے وہ بڑا بدنصیب ہے۔اس غیرسے مرادحضور کا دیدارنہیں کہ یہ تو وہاں کی حاضری کا اصل مقصود ہے۔خیال رہے کہ حاجی حضور کی زیارت کی نیت سے مدینہ منورہ جائے اسی پر وعدۂ شفاعت ہے کہ فرمایا "مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِیْ"۔جو بدنصیب صر ف وہ مسجد دیکھنے جائیں وہ اس شفاعت سے محروم ہیں،لہذا یہ حدیث ان کی دلیل نہیں ہمارے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 742