Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 693

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد: مسجد الحرام والمسجد الأقصى ومسجدي هذا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تین مسجدوں کے سوا کسی طرف کجاوے نہ باندھیں جائیں ایک مسجد حرام،ایک مسجد اقصٰی اورایک میری یہ مسجد ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سواءان مسجدوں کے کسی اورمسجد کی طرف اس لیے سفرکرکے جانا کہ وہاں نماز کا ثواب زیادہ ہے ممنوع ہے،جیسے بعض لوگ جمعہ پڑھنے بدایوں سے دہلی جاتے تھے تاکہ وہاں کی جامع مسجد میں ثواب زیادہ ملے یہ غلط ہے،ہر جگہ کی مسجدیں ثواب میں برابر ہیں۔اس توجیہ پرحدیث بالکل واضح ہے۔وہابی حضرات نے اسی کے معنی یہ سمجھے کہ سواء ان تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف سفر ہی حرام ہے۔لہذا عرس،زیارت قبوروغیرہ کے لئےسفرحرام۔اگر یہ مطلب ہوتو پھرتجارت، علاج، دوستوں کی ملاقات،علم دین سیکھنے وغیرہ تمام کاموں کے لیےسفر حرام ہوں گے اور ریلوے کا محکمہ معطل ہوکررہ جائے گا اوریہ حدیث قرآن کے خلاف ہی ہوگی۔اور دیگر احادیث کے بھی،رب فرماتا ہے:"قُلْ سِيْرُوْا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ"۔مرقاۃ نے اسی جگہ اور شامی نے "زیارت قبور"میں فرمایا کہ چونکہ ان تین مساجد کے سواءتمام مسجدیں برابر ہیں اس لئےاورمسجدوں کی طرف سفر ممنوع ہے اور اولیاءاللہ کی قبریں فیوض و برکات میں مختلف ہیں،لہذا زیار ت قبور کے لیےسفرجائزکیا،یہ جہلاء انبیاءکرام کی قبور کی طرف سفربھی منع کریں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 693