Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 702

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تُضَعَّفُ عَلٰى صَلَاتِهٖ فِيْ بَيْتِهٖ وَفِيْ سُوْقِهٖ خَمْسًا وَعِشْرِينَ ضِعْفًا،وَذٰلِكَ أَنَّهُ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُخْرِجُهٗ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلَّا رُفِعَتْ لَهٗ بِهَا دَرَجَةٌ، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ، فَإِذَا صَلَّى لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ فِيْ مُصَلَّاهُ: اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ، اللّٰهُمَّ ارْحَمْهُ، وَلَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِيْ صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ".وَفِيْ رِوَايَةٍ: قَالَ: "إِذَا دَخَلَ الْمَسْجدَ كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهٗ". وَزَادَ فِيْ دُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ: "اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهٗ، اللّٰهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيْهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم: "صلاة الرجل في الجماعة تضعف على صلاته في بيته وفي سوقه خمسا وعشرين ضعفا،وذلك أنه إذا توضأ فأحسن الوضوء ثم خرج إلى المسجد لا يخرجه إلا الصلاة، لم يخط خطوة إلا رفعت له بها درجة، وحط عنه بها خطيئة، فإذا صلى لم تزل الملائكة تصلي عليه ما دام في مصلاه: اللهم صل عليه، اللهم ارحمه، ولا يزال أحدكم في صلاة ما انتظر الصلاة".وفي رواية: قال: "إذا دخل المسجد كانت الصلاة تحبسه". وزاد في دعاء الملائكة: "اللهم اغفر له، اللهم تب عليه ما لم يؤذ فيه ما لم يحدث فيه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مردکی باجماعت نماز اس کے گھر یا بازار کی نمازپر پچیس گناہ زیادہ ثواب رکھتی ہے ۱؎اور یہ اس لیئےہے کہ جب وہ وضو کرے تو اچھی طرح کرے پھرمسجد کی طرف چلے ۲؎بجز نماز اور کوئی چیز اسے نہ لے جائے جوقدم بھی ڈالے گا اس پراس کا ایک درجہ بلندہوگا اورایک گناہ معاف ہوگا ۳؎پھرجب نماز پڑھے گا تو جب تک اپنی نمازکی جگہ میں رہے گا ملائکہ اسے دعائیں دیتے رہیں گے یااللہ اسے بخش دے،خدایا اس پر رحم کر۴؎اورجب تک تم میں کا کوئی نماز کاانتظارکرتاہے نماز ہی میں رہتا ہے ایک روایت میں ہے کہ فرمایا جب مسجد میں گھستا ہے نماز ہی اس کو روکتی ہے ۵؎اورفرشتوں کی دعا میں یہ زیادتی ہے الٰہی اسے بخش دے۔الٰہی اس کی توبہ قبول فرما جب تک کہ وہاں وہ ایذا نہ دے اور وضو نہ توڑے ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں بازار سے مراددکان ہے نہ کہ بازارکی مسجد،بعض مسجدوں میں ۲۵ کا ثواب ہے،بعض میں ۲۷ کا،بعض میں ۵۰۰ کا،جیسی مسجدہو،جیسی جماعت،جیسا امام ویسا ثواب،لہذا احادیث میں تعارض نہیں جو کوئی اپنے گھرمیں جماعت کرالے وہ بھی مسجدکے ثواب سے محروم ہے۔
۲
؎معلوم ہوا کہ گھر سے وضوکرکے مسجدکو جانا ثواب ہے کیونکہ یہ چلنا عبادت ہے اورعبادت باوضو افضل۔بعض لوگ بیمار پرسی کرنے باوضو جاتے ہیں۔
۳
؎یہ گنہگاروں کے لیےہے۔نیک کاروں کے لئےہر قدم پر دو نیکیاں اور دو درجے بلند کیونکہ جس چیز سے گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں اس سے بے گناہوں کے درجے بڑھتے ہیں۔
۴
؎غالبًا یہاںصلوۃسے مراد اخروی رحمت ہے اوررحمسے مراد دنیوی رحمت یاصلٰوۃسے مرادخاص رحمت ہے اوررحمسے مراد عام رحمت،اور بہت سی توجیہیں ہوسکتی ہیں۔
۵
؎یعنی انتظارنماز کے سوا اورکسی وجہ سے مسجد میں نہیں بیٹھتا گویا نماز ہی میں رہتا ہے،اسی لیےاس وقت انگلیوں کی"تشبیک"منع ہے۔
۶
؎یعنی فرشتوں کی یہ دعائیں اس وقت تک ملیں گی جب تک وہ کسی نمازی کو ستائے نہیں،اور وہاں ریح نہ نکالے۔خیال رہے کہ غیرمعتکف کو مسجد میں ریح نکالنا منع ہے،معتکف چونکہ مسجد ہی میں رہتا ہے اس لئےاسے معافی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 702