Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 699

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِيْ الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى،وَالَّذِيْ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتّٰى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ ثُمَّ يَنَامُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي موسى الأشعري قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أعظم الناس أجرا في الصلاة أبعدهم فأبعدهم ممشى،والذي ينتظر الصلاة حتى يصليها مع الإمام أعظم أجرا من الذي يصلي ثم ينام". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں نماز کا ثواب پانے والا وہ ہے جس کا راستہ دراز ہو پھروہ جس کا راستہ درازہو ۱؎اورجونماز کا انتظارکرے حتی کہ امام کے ساتھ پڑھے اس کا ثواب اس سے زیادہ ہے جونماز پڑھے پھرسوجائے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جس کا گھر اپنی مسجد سے دورہو،پھروہ مسجدمیں جماعت سے نماز پڑھاکرے اسے بقدرقدم ثواب ملے گا۔یہ مطلب نہیں کہ محلے کی مسجد چھوڑکرخواہ مخواہ دورکی مسجدمیں پہنچا کرے،ہاں اگرمحلے کی مسجد کا امام بدعقیدہ ہے تو اورجگہ جاسکتاہے۔
۲
؎خواہ اکیلے نماز پڑھ کر،خواہ دوسرے امام کے پیچھے جماعت سے پڑھ کر کیونکہ جماعت اول کا زیادہ ثواب ہے اور جماعت اول وہی ہے جو امام مسجد کے ساتھ پڑھی جائے،ہاں اگر وہ امام وقت مکروہ میں نماز پڑھتاہوتو اکیلا ہی پڑھ لے،جیسا کہ گزشتہ احادیث میں گزرچکا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 699