Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 731

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْكُبْرٰى -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا- قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلّٰى عَلٰى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ:"رَبِّ اغْفِرْ لِيْ ذُنُوبِيْ، وَافْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ"، وَإِذَا خَرَجَ صَلّٰى عَلٰى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ: "رَبِّ اغْفِرْ لِيْ ذُنُوبِيْ، وَافْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ فَضْلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ، وَفِيْ رِوَايَتِهِمَا قَالَتْ: إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَكَذَا إِذَا خَرَجَ قَالَ: "بِسْمِ اللّٰهِ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ" بَدَلَ: صَلّٰى عَلٰى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِمُتَّصِلٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تُدْرِكْ فَاطِمَةَ الْكُبْرٰى.

وعن فاطمة بنت الحسين عن جدتها فاطمة الكبرى -رضي الله عنهما- قالت: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- إذا دخل المسجد صلى على محمد وسلم وقال:"رب اغفر لي ذنوبي، وافتح لي أبواب رحمتك"، وإذا خرج صلى على محمد وسلم وقال: "رب اغفر لي ذنوبي، وافتح لي أبواب فضلك". رواه الترمذي وأحمد وابن ماجه، وفي روايتهما قالت: إذا دخل المسجد وكذا إذا خرج قال: "بسم الله والسلام على رسول الله" بدل: صلى على محمد وسلم. وقال الترمذي: ليس إسناده بمتصل، وفاطمة بنت الحسين لم تدرك فاطمة الكبرى.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت فاطمہ بنت حسین سے ۱؎وہ اپنی دادی حضرت فاطمۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے راوی۲؎فرماتی ہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمدمصطفی پر درود و سلام بھیجتے ۳؎اورفرماتے الٰہی میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب نکلتے تو جناب مصطفےٰ پر درود و سلام بھیجتے اورفرماتے یارب میرے گناہ بخش دے میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۴؎(ترمذی،احمد،ابن ماجہ)ان دونوں کی روایت میں یہ بھی ہے کہ فرماتی ہیں جب مسجد میں جاتے اوریونہی جب نکلتے تو بجائے صلوۃ وسلام کے یہ کہتےبسم الله والسلام علی رسول الله۵؎ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد متصل نہیں فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبرےٰ کو نہ پایا ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا لقب فاطمہ صغرٰی ہے،امام حسین کی صاحبزادی اور امام زین العابدین کی بہن ہیں،حسین ابن حسن ابن علی کے نکاح میں تھیں،ان کی وفات کے بعدعبداللہ ابن عمرو ابن عثمان ابن عفان کے نکاح میں آئیں۔جلیل القدر تابعین میں سے ہیں،یعنی صحابۂ کرام کی صحبت یافتہ۔
۲
؎آپ کا لقب فاطمۃ الکبریٰ ہے،حضورعلیہ السلام کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں،خدیجۃ الکبریٰ سے ہیں،ماہ رمضان ۲ھمیں سیدنا علی مرتضی کے نکاح میں آئیں،اور ذی الحجہ میں رخصتی ہوئی،دو بیٹے اورتین بیٹیاں چھوڑ یں،حسن،حسین،زینب،ام کلثوم،رقیہ،حضورعلیہ السلام کی وفات کے چھ ماہ بعد وفات پائی،۲۸ سال عمر ہوئی،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا،حضرت عباس یا ابوبکر صدیق نے نمازجنازہ پڑھائی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے فاطمہ سے بڑھ کرسچا نہ دیکھا۔
۳
؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسجد میں جاتے وقت درود شریف پڑھنا سنت ہے۔شفا شریف میں ہےکہ خالی گھر اور مسجد میں جاتے وقت یہ پڑھے "اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللهِ وَبَرَکَاتُہٗ"۔دوسرے یہ کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم خودبھی اپنے پر درود سلام پڑھتے تھے کبھی "صَلَّی اﷲ عَلےٰ مُحَمَّد وَسَلَّم"اورکبھی "صَلَّی اللهُ عَلیَّ وَ سَلَّمَ"فرماتے۔
۴
؎ان دو جملوں کی تفسیر اسی باب میں پہلے گزر چکی۔حضورعلیہ السلام کا گناہوں کی بخشش مانگنا یا تو ہمیں سکھانے کے لیے ہے یا گناہوں سے اپنی امت کے وہ گناہ مراد ہیں جن کا بخشوانا ان کے ذمۂ کرم پر ہے،جیسے مقدمہ کا وکیل کہتا ہے میرا مقدمہ۔اس کی نفیس ولذیذتحقیق ہماری "تفسیرنعیمی"،خورد سورۂ فتح "لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ"کے ماتحت دیکھو۔
۵
؎سنت ہے کہ یہ الفاظ اب بھی کہے جائیں۔اس سے معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ گری ہر جگہ ہے،ورنہ غائب کو سلام کیسا؟ ہرنمازیالتحیاتمیں پڑھتا ہے"اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ
۶
؎کیونکہ حضرت فاطمہ کبرےٰ کی وفات کے وقت آپ کے والد امام حسین کی عمر آٹھ سال تھی،لہذاکسی راوی کا نام چھوٹ گیا،جس نے حضرت فاطمہ زہرا سے سنا ہو۔مرقاۃ میں ہے وہ راوی خود آپ کے والد امام حسین ہیں،چنانچہ ابن مردویہ نے اس کی اسنادیوں بیان کی "فاطمۃ بنت الحسین عن حسین عن فاطمۃ الکبریٰ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 731