Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 744

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ نائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِيْ رَجُلٌ، فَنَظَرتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ- فَقَالَ: اذْهَبْ فَأْتِنِيْ بِهٰذَيْنِ، فَجئْتُهٗ بِهِمَا، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتُمَا؟ أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا؟ قَالَا: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، قَالَ: لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لأَوْجَعْتكُمَا، تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن السائب بن يزيد قال: كنت نائما في المسجد فحصبني رجل، فنظرت فإذا هو عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- فقال: اذهب فأتني بهذين، فجئته بهما، فقال: ممن أنتما؟ أو من أين أنتما؟ قالا: من أهل الطائف، قال: لو كنتما من أهل المدينة لأوجعتكما، ترفعان أصواتكما في مسجد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سائب ابن یزیدسے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں سورہا تھاکسی نے مجھے کنکری ماری میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق تھے ۲؎فرمایا جاؤ ان دونوں کو میرے پاس لاؤ میں ان دونوں کو لے کر آیا فرمایا تم لوگ کون ہو یا کہاں سے آئے ہو وہ بولے ہم طائف والے ہیں فرمایا اگر تم مدینہ والوں میں سے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا ۳؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آوازیں اونچی کرتے ہو ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ بہت نوعمرصحابی ہیں،اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں حضور کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کی عمر سات سال تھی۔
۲
؎حضرت سائب کا مسجدنبوی میں سونا یا اس لیے تھا کہ آپ مسافر تھےیا نیت اعتکاف کرلیتے تھےیا آپ جائز سمجھتے تھے۔بعض علماءمسجد میں سونے کو مکروہ کہتے ہیں،بعض بلاکراہت جائز،حضرت فاروق اعظم نے انہیں آواز دے کر نہ جگایا مسجد پاک کا احترام کرتے ہوئے۔
۳
؎مسجدنبوی میں بلند آواز سے باتیں کرنے پر کیونکہ مدینہ والے یہاں کے آداب سے واقف ہیں تم لوگ پردیسی ہو مسائل سے پورے واقف نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ حاکم گناہ صغیرہ پربھی تعزیرًا سزا دے سکتا ہے،جہاں علم کی روشنی کم پہنچتی ہویابالکل نہ پہنچی ہو وہاں کے لوگوں کو بے علمی پرمعذور رکھا جاسکتا ہے،ورنہ بے علمی عذرنہیں۔خیال رہے کہ طائف حجاز کا مشہورشہر ہے،مکہ معظمہ سے تین منزل دورسیدنا عبداللہ ابن عباس کا مزار پرانوار وہیں ہے۔فقیرنے زیارت کی ہے۔
۴
؎مرقاۃ نے فرمایا کہ مسجدنبوی کی حرمت دوسری مسجدوں سے زیادہ ہے کیونکہ حضور اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں،وہاں حضور کا دربار ہے،اس کا ادب چاہیئے۔وہ حضرات دنیوی باتیں اونچی آواز سے کررہے تھے،ورنہ مسجد میں درس و تدریس،ذکر اللہ،نعت شریف وغیرہ بلند آواز سے کرسکتے ہیں،جب کہ نمازیوں کو تکلیف نہ ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 744