Main Icon

باب:غلہ روکنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2895

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ احْتَكَرَ عَلَى المُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ ضَرَبَهُ اللّٰهُ بِالجُذَامِ وَالْإِفْلَاسِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَرَزِينٌ فِي كِتَابِهٖ

عن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من احتكر على المسلمين طعامهم ضربه الله بالجذام والإفلاس» . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان. ورزين في كتابه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو مسلمانوں پر ان کی روزی(غلہ)روکے ۱؎اللّٰهاسے کوڑھ اور مفلسی میں مارے ۲؎(ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان اور رزین نے اپنی کتاب میں)

شرح حدیث

۱∞؎ان کی روزی فرمانے میں اشارۃً فرمایا کہ احتکار مطلقًا ممنوع ہے مگر مسلمانوں پر احتکار زیادہ برا کہ مسلمان کو تکلیف دینا دوسروں کو تکلیف دینے سے بدتر ہے۔
۲
؎حق یہ ہے کہ یہ جملہ خبر نہیں بلکہ بددعا ہے،گویا محتکر یعنی غلہ ذخیرہ کرکے لوگوں کو بھوکا مارنے والا نبی کی بددعا کا مستحق ہے اور اس کے برعکس مسلمانوں پر وسعت کرنے والا نبی کی دعا کا حقدار ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2895