Main Icon

باب:غلہ روکنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2894

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلٰى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ سَعِّرْ لَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ بِدَمٍ وَلَا مَالٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِيُّ

وعن أنس قال: غلا السعر على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا رسول الله سعر لنا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق وإني لأرجو أن ألقى ربي وليس أحد منكم يطلبني بمظلمة بدم ولا مال» . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے زمانہ میں بھاؤ چڑھتے گئے تو صحابہ نے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم بھاؤ مقرر فرمادیجئے ۱؎تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا بھاؤ مقرر فرمانے والااللّٰهہے وہ ہی تنگی و فراخی فرمانے والا روزی رساں ہے ۲؎میری آرزو ہے کہ اپنے رب سے اس طرح ملو۳؎کہ تم میں سے کوئی مجھ سے خونی یا مالی ظلم کا مطالبہ نہ کرسکے ۴؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دن بدن گرانی بڑھتی جارہی ہے،آپ ہر چیز پر کنٹرول(Control)فرماتے ہوئے بھاؤ مقرر فرمادیں کہ کوئی شخص اس سے زیادہ بھاؤ پر فروخت نہ کرسکے تاکہ خریداروں کو آسانی ہوجیساکہ آج کل حکومتیں کرتی رہتی ہیں۔
۲
؎یعنی بھاؤ کا اتار چڑھاؤ گرانی و ارزانی رب کی طرف سے ہے یہ قدرتی چیز ہے جو انسان کی تدبیر سے دفع نہیں ہوسکتی،اس کے لیے رب سے دعائیں مانگو کہ وہ رحم کرے ارزانی بھیجے۔سبحان اللّٰه! کیا پیارا فرمان ہے تجربہ شاہد ہے کہ کنٹرول(Control)سے ارزانی نہیں ہوتی گرانی بڑھ جاتی ہے کہ پھر تاجر بلیک(Black)دوگنی تگنی قیمت پر فروخت کرتے ہیں بلکہ کبھی چیز ناپید ہوجاتی ہے بھلا جس چیز کو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے رد فرمادیا ہو وہ مفید کب ہوسکتی ہے۔
۳
؎یعنی میری وفات اس حال میں ہو یا قیامت میں اس طرح اٹھوں کہ کسی بندہ کا مجھ پر کوئی حق نہ ہو،ورنہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم تو رب سے اتنے قریب ہیں اور رب سے ایسے ملے ہوئے ہیں کہ جو ان سے مل جائے وہ رب سے مل جاتا ہے،رب فرماتا ہے کہ اگر مجرم آپ کے دروازہ پر آکر استغفار کریں تو رب کو پالیں گے،حضرت حسان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں۔شعرضم الالہ اسم النبی باسمہ اذ قال فی الخمس المؤذن اشھدیعنی رب نے توان کے نام کو اپنے نام کے ساتھ اذان و کلمہ وغیرہ میں ملالیا،ہم نے عرض کیا ہے۔شعر
وہ رب کے ہیں رب ان کا ہے جو ان کا ہے وہ رب کا ہے
بے ان کے جو رب سے ملا چاہے دیوانہ ہے سودائی ہے
بہرحال رب سے ملنے سے مراد وفات یا قیامت میں اٹھنا ہے۔
۴
؎معلوم ہوا کہ چیزوں پر کنٹرول کرنا،ان کے بھاؤ مقرر کردینا تاجروں پر بھی ظلم ہے خریداروں پر بھی،تاجروں پر اس لیے کہ جب انہیں وہ چیز اس بھاؤ پڑتی نہیں تو وہ بیچیں گے کیوں کر اگر حکومت جبرًا سستی بکوا دے تو یہ دوسرے کے مال میں ناحق تصرف ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تاجر بیوپار چھوڑ دیں گے اورلوگ بھوکے مریں گے جیسا کہ اب بھی مشاہدہ ہورہا ہے،ہاں اگر حکومت خود تجارت کرے یا تاجروں کو مناسب بھاؤ پر مہیا کرکے دے،پھر فروخت کا بھاؤ مقررکردے جس سے تاجروں کو نقصان نہ ہو اور چیز ناپید نہ ہو تو جائز ہوسکتا ہے۔اس کی تفصیل اسی جگہ لمعات شرح مشکوۃ میں ملاحظہ فرمایئے،کچھ مرقات نے بھی اس پر روشنی ڈالی ہے،خریداروں پر اس لیے کہ جب تاجر کنٹرول کی وجہ سے مال باہر سے لانا چھوڑ دیں گے تو خریدار مال کہاں سے حاصل کریں گے،شہر میں قحط پڑ جائے گا یا پھر بلیک (Black)ہوکر مال بہت ہی گراں ملے گا جیساکہ آج دیکھا جارہا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2894