Main Icon

باب:غلہ روکنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2897

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بِئْسَ الْعَبْدُ الْمُحْتَكِرُ: إِنْ أَرْخَصَ اللّٰهُ الْأَسْعَارَ حَزِنَ وَإِنْ أَغْلَاهَا فَرِحَ ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي “شُعَبِ الإِيمَانِ”. وَرَزِينٌ فِي كِتَابِهٖ

وعن معاذ قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " بئس العبد المحتكر: إن أرخص الله الأسعار حزن وإن أغلاها فرح ". رواه البيهقي في “شعب الإيمان”. ورزين في كتابه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا غلہ روکنے والا بندہ بہت برا ہے کہ اگراللّٰهبھاؤ سستے کرے تو رنجیدہ ہو اور اگر مہنگے کرے تو خوش ۱؎(بیہقی شعب الایمان اور رزین اپنی کتاب میں)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تکلیف پر خوش ہونا اور ان کی خوشی پر ناراض ہونا لعنتی آدمیوں کا کام ہے خوشی و غم میں مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہیے،غلہ کے ناجائز بیوپاریوں کا عام حال یہ ہی ہے کہ ارزانی سن کر ان کا دل بیٹھ جاتاہے،گرانی کے لیے ناجائز عمل کرتے ہیں،اُلٹے وظیفے پڑھتے ہیں،لوگوں سے قحط کی دعائیں کراتے ہیںنعوذ باللّٰہ !،وقت پر بارش ہو تو ان کے گھر صفِ ماتم بچھ جاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2897