Main Icon

باب:غلہ روکنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2896

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ احْتَكَرَ طَعَامًا أَرْبَعِينَ يَوْمًا يُرِيدُ بِهِ الغَلَاءَ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ اللّٰهِ وَبَرِئَ اللّٰهُ مِنْهُ» . رَوَاهُ رَزِينٌ

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من احتكر طعاما أربعين يوما يريد به الغلاء فقد برئ من الله وبرئ الله منه» . رواه رزين

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو چالیس دن غلہ روکے ۱؎کہ اس کے مہنگے ہونے کا انتظار کرے ۲؎تو وہاللّٰهسے دورہوگیا اوراللّٰهاس سے بیزار ہوگیا ۳؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎چالیس دن کا ذکر حد بندی کے لیے نہیں تاکہ اس سے کم احتکار جائز ہو،بلکہ مقصد یہ ہے کہ جو احتکار کا عادی ہو جائے اس کی یہ سزا ہے۔چالیس دن کوئی کام کرنے سے عادت پڑ جاتی ہے اس لیے چالیس دن نماز باجماعت کی تکبیر اولٰی پانے کی بڑی فضیلت ہے کہ اتنی مدت میں وہ جماعت کا عادی ہوجائے گا۔
۲
؎ہر جگہ احتکار میں یہ ہی قید ہے کہ غلہ کی گرانی کے لیے اس کا ذخیرہ کرنا ممنوع ہے وہ بھی جب کہ لوگ تنگی میں ہوں اور یہ بہت زیادہ گرانی کا انتظار کرے کہ خوب نفع سے بیچے۔
۳
؎یہ فرمان عالی شان انتہائی غضب کا ہے جو بادشاہ کی حفاظت سے نکل جائے اس کا حال کیا ہوتا ہے جو چاہے اس کا مال لوٹ لے،جو چاہے اس کا خون کردے،جو چاہے اس کے زن و فرزند کو ہلاک کردے تو جو رب تعالٰی کی امان و عہد سے نکل گیا اس کی بدحالی کا اندازہ نہیں ہوسکتا لہذا یہ ایک جملہ ہزارہا عذابوں کا پتہ دے رہاہے۔رب تعالٰی محفوظ رکھے،یہ حدیث احمد و حاکم نے کچھ فرق کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے روایت فرمائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2896