Main Icon

باب:شرکت اور وکالت کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2937

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَكِيم بْنِ حِزَامٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهٗ بِدِينَارٍ لِيَشْتَرِيَ لَهٗ بِهٖ أُضْحِيَّةً فَاشْتَرٰى كَبْشًا بِدِينَارٍ وَبَاعَهٗ بِدِينَارَيْنِ فَرَجَعَ فَاشْتَرٰى أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ فَجَاءَ بِهَا وَبِالدِّينَارِ الَّذِي اسْتَفْضَلَ من الْأُخْرٰى فَتَصَدَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّينَارِ فَدَعَا لَهٗ أَنْ يُبَارَكَ لَهٗ فِي تِجَارَتِهٖ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن حكيم بن حزام أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث معه بدينار ليشتري له به أضحية فاشترى كبشا بدينار وباعه بدينارين فرجع فاشترى أضحية بدينار فجاء بها وبالدينار الذي استفضل من الأخرى فتصدق رسول الله صلى الله عليه وسلم بالدينار فدعا له أن يبارك له في تجارته. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حکیم ابن حزام سے ۱؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کے ہاتھ ایک اشرفی بھیجی تاکہ آپ کے لیے قربانی خرید لیں انہوں نے ایک اشرفی سے مینڈھا خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا ۲؎پھر واپس بازار آئے اور ایک اشرفی سے قربانی خریدلی پھر حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس قربانی اور دوسری قربانی سے بچی ہوئی اشرفی لائے تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اشرفی تو خیرات کردی ۳؎اور انہیں دعا دی کہ ان کی تجارت میں ہمیشہ برکت ہو ۴؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی کنیت ابو خالد ہے،قرشی ہیں، حضرت خدیجہ کے بھتیجے،خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے،واقعہ فیل سے تیرہ سال پہلے فتح مکہ میں ایمان لائے،مدینہ منورہ میں وفات پائی، عمر ایک سو بیس سال ہوئی، ۵۴ھ؁∞ میں وفات ہوئی۔
۲
؎آپ کو یقین تھا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم میرے اس بیچ دینے سے ناراض نہ ہوں گے اس لیے جانور بیچ دیا ورنہ آپ صرف خریدنے کے لیے وکیل تھے نہ کہ فروخت کرنے کے۔
۳
؎آپ نے حکیم کی یہ بیع جائز رکھی ۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض صورتوں میں قربانی کے لیے خریدا ہوا جانور فروخت کرکے دوسرا جانور خرید سکتے ہیں،خصوصًا جب کہ قربانی کرنے والا غریب نہ ہو امیر ہو،یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور کی قیمت سے بچا ہوا پیسہ اپنے کام میں نہ لائے بلکہ خیرات کردے تاکہ اپنا صدقہ خود نہ کھائے۔
۴
؎چنانچہ رب تعالٰی آپ کو ہمیشہ تجارتوں میں برکت دیتا تھا جو لوگ آپ کے ساتھ مل کر تجارت کرتے تھے وہ بھی مالدار ہوجاتے تھے اور بڑے بڑے تاجر آپ کے مشورہ سے بیوپار کرتے تھے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2937