Main Icon

باب:شرکت اور وکالت کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2934

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أدِّ الْأَمَانَةَ إِلٰى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أد الأمانة إلى من ائتمنك ولا تخن من خانك رواه الترمذي وأبو داود والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ حضور نے فرمایا کہ جو تم سے امانتداری کرے اس کی امانت ادا کرو ۱؎اور جو تم سے خیانت کرے اس سے تم خیانت نہ کرو ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو شخص تمہیں امین جان کر اپنے مال،اسرار،عزت و آبرو وغیرہ کو تمہارے سپرد کرے تو تم امین ہی بن کر اسے دکھا دو کہ اس کے کسی معاملہ میں خیانت نہ کرو۔
۲
؎علماء فرماتے ہیں کہ حدیث فتویٰ پر شامل ہوسکتی ہے اور تقویٰ پر بھی،فتویٰ یہ ہے کہ خائن سے بقدر خیانت بدلہ لے سکتے ہیں،اگر کسی نے تمہارے سو روپے مار لیے تو جب کبھی وہ تمہارے پاس اپنی کچھ رقم امانت یا قرض دے تو اپنا حق وضع کرکے باقی مال اسے دو کہ یہ وضع خیانت نہیں بلکہ اپنا حق وصول کرنا ہے،مگر تقویٰ یہ ہے کہ ایسے شخص سے بھی بدلہ میں یہ معاملہ نہ کرے،اپنا حق علیحدہ مانگے مگر اس کا یہ حق پورا ادا کرے،یہ اعلٰی درجہ کا اخلاق ہے، رب تعالٰی فرماتاہے:"اِدْفَعْ بِالتِیۡ ھِیَ اَحْسَنُ"۔حضور فرماتے ہیں "واحسن اِلی من اساءَ الیك"جو تم سے برائی کرے تم اس سے بھلائی کرو۔خیال رہے کہ کافر حربی کی بھی خیانت جائز نہیں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہجرت کے موقع پر ان خون کے پیاسے دشمنوں کی امانتیں ادا کیں جنہوں نے قتل کے ارادے سے حضور کا گھر گھیر لیا تھا،حضرت علی کو حضور نے مکہ معظمہ چھوڑا اور آپ صدیق اکبر کے ساتھ روانہ ہوگئے، حضرت علی سے فرما گئے کہ ان ہی لوگوں کی میرے پاس امانتیں ہیں تم وہ ادا کرکے مدینہ آجانا۔
۳
؎یہ حدیث بخاری نے اپنی تاریخ میں،حاکم نے اپنی مستدرک میں،دارقطنی نے حضرت انس سے روایت کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2934