Main Icon

باب:شرکت اور وکالت کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2935

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلٰى خَيْبَرَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلٰى خَيْبَرَ فَقَالَ: «إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِي فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً فَضَعْ يَدَكَ عَلَى تَرْقُوَتِهٖ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن جابر قال: أردت الخروج إلى خيبر فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه وقلت: إني أردت الخروج إلى خيبر فقال: «إذا أتيت وكيلي فخذ منه خمسة عشر وسقا فإن ابتغى منك آية فضع يدك على ترقوته» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے خیبر جانے کا ارادہ کیا تو میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو سلام کیا اور عرض کیا کہ میں خیبر جانے کا ارادہ کررہا ہوں ۱؎فرمایا جب تم ہمارے وکیل کے پاس جاؤ تو ان سے پندرہ وسق لے لینا ۲؎پھر اگر تم سے کوئی نشانی مانگیں تو ان کے گلے پر ہاتھ رکھ دینا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎صحابہ کرام جب کبھی سفر میں جاتے تو حضور انور کو مل کر،آپ سے وداع ہوکر،آپ کی دعائیں و نصیحتیں لے کر جاتے تھے ان کے لیے یہ دعائیں نصیحتیں سفر کا بہترین توشہ ہوتی تھیں۔بعض حضرات تو صراحۃً عرض کرتے تھے کہ سفر کو جارہاہوں کچھ توشہ عنایت فرمایا جائے،اس کے مطابق حضرت جابر حضور انور سے وداع ہونے حاضر ہوئے آپ اپنے کسی کام کو خیبر جا رہے تھے۔
۲
؎ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے،ایک صاع ساڑھے چار سیر کا،حضور انور نے آپ کو وکیل قبض بنایا کہ ہماری اتنی کھجوریں یا جَو ان وکیل سے وصول کرکے ہمارے پاس لے آنا وہ حضرت خیبر میں وکیل وصولی بنا کر بھیجے گئے تھے کہ اہل خیبر سے حضور کے حصہ کی کھجوریں یہود خیبر سے وصول کرکے اپنے پاس رکھیں جب کوئی شخص مدینہ آئے گا ہم اس کے ہاتھ منگوالیں گے۔اس حدیث سے دو طرح وکالت ثابت ہوئی اور دو قسم کی ثابت ہوئی:وکالت قبض،وکالت وصولی۔
۳
؎حضور انور نے اس پہلے وکیلِ وصول کو اولا ً سمجھادیا تھاکہ آدمی تمہارے پاس جو آئے گا اس کو ہم یہ علامت سمجھا دیں گے تاکہ کوئی اور شخص ناجائز طور پر ان سے یہ مال نہ لے لے۔خیال رہے کہ یہ عمل ہم کو تعلیم کے لیے ہے ورنہ تمام صحابہ سچے،عادل،قابل اعتماد ہیں ان پر جھوٹ یا دھوکہ کا احتمال بھی نہیں ہوسکتا،انہیں حضرت جابر نے صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ سے عرض کیا تھاکہ حضور انور نے مجھ سے تین لپ بھرکر درہم دینے کا وعدہ فرمایا تھاکہ حضور کی وفات ہوگئی،جناب صدیق اکبر نے بغیر گواہ وقسم لیے وہ وعدہ پورا کیا،کیوں؟ اس لیے کہ صحابہ عادل ثقہ ہیں ان کی بات قبول ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2935