Main Icon

باب:شرکت اور وکالت کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2931

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا النَّخِيلَ، قَالَ: "لَا، تَكْفُونَنَا الْمَؤُونَةَ وَنُشْرِككُمْ فِي الثَّمَرَةِ". قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أبي هريرة قال: قالت الأنصار للنبي صلى الله عليه وسلم: اقسم بيننا وبين إخواننا النخيل، قال: "لا، تكفوننا المؤونة ونشرككم في الثمرة". قالوا: سمعنا وأطعنا. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ انصار نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان کھجوروں کے درخت تقسیم فرمادیں ۱؎فرمایا نہیں بلکہ تم ہماری طرف سے قیمت کرو اور پھلوں میں ہم تمہارے شریک ہیں ۲؎وہ بولے ہم نے سن لیا اطاعت کریں گے ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ شروع ہجرت کا ہے جب مہاجر مکہ مکرمہ وغیرہ سے مدینہ پاک آئے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مہاجرین و انصار میں عقد مواخات یعنی بھائی چارہ قائم فرمایا کہ فلاں مہاجرین فلاں انصار کا بھائی اور فلاں فلاں کا،تب انصار نے عرض کیا کہ ہمارے باغ ہمارے بھائی مہاجرین میں اس طرح تقسیم فرمادیجئے کہ ہر انصار کے باغ میں اس کے مہاجر بھائی کا آدھا حصہ ہو،یہ تھی وہ بے مثال مہمان نوازی جس کی مثال آسمان نے نہ دیکھی ہوگی۔
۲
؎سبحان اللّٰه! کیا پیارا فرمان ہے مقصد تو یہ تھا کہ انصار کے باغ انہیں کے رہیں کہ یہ ان کی روزی کا ذریعہ ہیں مگر ظاہر اسی طرح فرمایا کہ مہاجرین کو باغبانی آتی بھی نہیں اور ان کے پاس اتناوقت بھی نہیں کہ باغ کو پانی دینے وغیرہ کا کام کیا کریں،محنت تم کرو،پھل آدھا آدھا کردیا کرو،مقصد اور ہے اظہار کچھ اور تاکہ انصار کے مال محفوظ رہیں اور ان کی دل شکنی بھی نہ ہو۔(مرقات)صاحب مشکوٰۃ کا یہ حدیث یہاں لانے سے مقصد یہ ہے کہ پھلوں میں شرکت جائز ہے کہ درخت ایک شخص کے ہوں پھل مشترکہ اس لیے یہ حدیث یہاں لائے،اس سے بہت مسائل مستنبط ہوسکتے ہیں۔کوئی شخص کسی سے اپنے باغ کی تمام خدمات لے اس طرح کہ باغ اس کا محنت دوسرے کی پیداوار مشترکہ یہ جائز ہے کھیتی وغیرہ کا بھی یہی حال ہے کہ زمین ایک کی،محنت دوسرے کی،پیداوار مشترک یہ بھی جائز ہے۔
۳
؎انصار کی نیت یہ تھی کہ ہم نے اپنا باغ نصف مہاجر بھائی کو دے ہی دیا،اب باغ بھی مشترکہ ہے پیداوار بھی مشترکہ کام غیر مشترک کام ہم ہی کریں گے مگر حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی نیت کچھ اور تھی جو ابھی عرض کی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2931