Main Icon

باب:شرکت اور وکالت کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2933

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَفَعَهٗ قَالَ: " إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَاصَاحِبَهٗ فَإِذَا خَانَهٗ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَزَادَ رَزِيْنٌ: « وَجَاءَ الشَّيْطَانُ»

عن أبي هريرةرفعه قال: " إن الله عز وجل يقول: أنا ثالث الشريكين ما لم يخن أحدهماصاحبه فإذا خانه خرجت من بينهما ". رواه أبو داود وزاد رزين: « وجاء الشيطان»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ اسے مرفوع فرما کر فرماتے ہیں کہ رب تعالٰی فرماتا ہے میں دو شریکوں کا تیسرا ہوتا ہوں جب تک کہ ان میں کا ایک اپنے ساتھی سے خیانت نہ کرے ۱؎جب خیانت کرتا ہے تو ان کے درمیان سے میں نکل جاتا ہوں ۲؎(ابوداؤد) رزین نے یہ اوربڑھایا کہ شیطان آجاتا ہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اللّٰهتعالٰی کے تیسرا ہونے کا مطلب یہ ہے کہاللّٰهتعالٰی کی رحمت و برکت ان دونوں صاحبوں کے شریک حال ہوجاتی ہے رب کو ان کا شریک قرار دینا مجازًا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تجارتی کاروبار شرکت میں کرنا اکیلے اکیلے کرنے سے بہتر ہے جماعت پراللّٰهکا ہاتھ ہوتا ہے۔علیحدگی کی صورت میں ہر ایک دوسرے کی مخالفت کرتا ہے اور شرکت میں ایک دوسرے کا تعاون کرتا ہے اوراللّٰهتعالٰی بندوں کی مدد کرنے والے کی مدد کرتاہے،اس سے کاروبار کے بہت مسائل مستنبط ہوسکتے ہیں۔
۲
؎یعنی اپنی برکت نکال لیتا ہوں بے برکتی داخل فرمادیتا ہوں،یہ تجربہ سے بھی ثابت ہے کہ جب تک تجارت میں نیک نیتی سے شرکت رہے بڑی برکت ہوتی ہےاور جہاں نیت خراب ہوتی تو برکت گئی اور دکان کا دیوالیہ ہوابارہا کا تجربہ ہے۔
۳
؎یعنی بدنیت شریکوں کے ساتھ شیطان شامل رہتا ہے کہ ان سے صدہا گناہ کراتا ہے پھر ہر ایک شریک چوری، جھوٹ،حسد،بغض وغیرہ کرنے لگتا ہے،آخر کار بہت بدنامی اور لڑائی کے ساتھ ان کی علیحدگی ہوتی ہے،جب شیطان شریک ہوگیا تو پھر گناہوں کی کیا کمی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2933