Main Icon

باب:شرکت اور وکالت کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2936

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ فِيهِنَّ الْبَرَكَةُ: الْبَيْعُ إِلٰى أَجَلٍ وَالْمُقَارَضَةُواِخْلَاطُ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ لِلْبَيْتِ لَا لِلْبَيْعِ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

عن صهيب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ثلاث فيهن البركة: البيع إلى أجل والمقارضةواخلاط البر بالشعير للبيت لا للبيع ". رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت صہیب سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ تین چیزوں میں برکت ہے ۲؎ادھار بیچنا، قرض دینا اور گیہوں جو سے ملانا ۳؎مگر گھر کے لیے نہ کہ تجارت کے لیے ۴؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صہیب ابن سنان ہیں،کنیت ابو یحیی ،علاقہ موصل میں دجلہ و فرات کے درمیان کے رہنے والے،آپ کے علاقہ پر روم نے حملہ کرکے آپ کو غلام بنالیا اور بنی کلب قبیلہ نے آپ کو رومیوں سے خرید لیا۔بنی کلب نے عبداللّٰهابن جدعان کے ہاتھ فروخت کردیا مکہ معظمہ لاکر انہوں نے ہی آپ کو آزاد کیا،آپ اور عمار ابن یاسر ایک ہی دن ایمان لائے جب کہ حضور انور دار ارقم میں پناہ گزین تھے۔آپ نے کفار مکہ کے ہاتھوں اسلام لاکر بہت مصیبتیں اٹھائیں،آپ کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشْرِیۡ نَفْسَهُ"الخ۔نوے سال عمر ہوئی، ۸۰ھ؁∞ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،بقیع میں دفن ہوئے،آپ کے فضائل بے شمار ہیں بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک رہے۔
۲
؎برکت و کثرت میں فرق ہے ہر زیادتی کثرت ہےمگر خیر و نفع کی زیادتی برکت ہے،کثرت سے برکت اعلٰی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا"وَجَعَلَنِیۡ مُبَارَکًا"رب نے مجھے برکت والا بنایا،کثرت والا نہ کہا۔
۳
؎فقراء کو ادھار بیچ دینے میں دعائیں بھی ملتی ہیں،لوگوں کی تعریفیں بھی، رب کی رحمت بھی۔قرض دینے سے مراد ہے مضاربۃ پر مال دینا کہ مال ہمارا ہو محنت دوسرے کی،نفع میں شرکت۔گندم میں قدرے جو ملانے سے سنت بھی ادا ہوتی ہے۔خرچ میں کفایت بھی،روٹی زود ہضم بھی ہوتی ہے،قدرے ٹھنڈی بھی،گندم گرم ہے جو ٹھنڈے۔
۴
؎یعنی گندم دکھا کر جو ملا کر نہ بیچو کہ اس میں خریدار کو دھوکا دہی ہے بلکہ اپنے کھانے کے لیے گندم میں جو ملاؤ فروخت میں جو خریدار کودکھاؤ وہ ہی دو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2936