باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5752
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ قَالَ: أَجَلْ وَاللّٰهِ إِنَّهٗ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهٖ فِي القُرْآنِ: (يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا) وحِرْزًا للاُمِّيِّينَ، أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلٰكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللّٰهُ حَتّٰى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن عطاء بن يسار قال: لقيت عبد الله بن عمرو بن العاص قلت: أخبرني عن صفة رسول الله صلى الله عليه وسلم في التوراة قال: أجل والله إنه لموصوف في التوراة ببعض صفته في القرآن: (ياأيها النبي إنا أرسلناك شاهدا ومبشرا ونذيرا) وحرزا للاميين، أنت عبدي ورسولي سميتك المتوكل ليس بفظ ولا غليظ ولا سخاب في الأسواق ولا يدفع بالسيئة السيئة ولكن يعفو ويغفر ولن يقبضه الله حتى يقيم به الملة العوجاء بأن يقولوا: لا إله إلا الله ويفتح بها أعينا عميا وآذانا صما وقلوبا غلفا. رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عطاء ابن یسار سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص سے ملاقات کی میں نے کہا مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وہ صفات سناؤ جو توریت میں مذکور ہیں ۲؎انہوں نے کہا ہاں الله کی قسم حضور توریت میں بعض ان صفات سے موصوف ہیں جو قرآن میں موجود ہیں ۳؎وہاں ارشادہے اے نبی۴؎ہم نے تم کو گواہ ۵؎بشارت دینے والے ڈرانے والا۶؎بے پڑھوں کا حفاظت کرنے والا پناہ بناکر بھیجا۷؎تم میرے بندے اور رسول ہو میں نے تمہارا نام متوکل رکھا۸؎نہ سخت دل نہ سخت زبان نہ بازاروں میں شورکرنے والے ۹؎برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے بلکہ معافی و بخشش کردیتے ہیں ۱۰؎الله انہیں وفات نہ دے گا حتی کہ ان کے ذریعہ ٹیڑھے دین کو سیدھا کردے گا ۱۱؎اس طرح کہ لوگ کہیں گےلا الہ الا الله۱۲؎اور اس سے الله اندھی آنکھیں بہرے کان اور ڈھکے دل کھول دے گا۱۳؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎عطاء ابن یسار مشہور تابعی بھی ہیں اور آپ حضرت ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کے آزادکردہ غلام ہیں،حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص نے توریت علماء یہود سے سیکھی تھی۔
۲؎اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی نعت شریف پڑھنی اور دوسرے سے پڑھوا کر سننی دونوں سنت صحابہ ہیں اور گذشتہ آسمانی کتابوں کے نعت والے مضامین یادکرنا لوگوں کو سنانا بھی سنت ہے،پچھلی کتابوں میں حضور کی نعت تلاش کرنی بھی سنت ہے،بعض حضرات نے ہندو شاعروں کے نعتیہ کلام کتابی شکل میں شائع کیے ہیں یہ سب اس عمل سے ماخوذ ہیں۔
۳؎یعنی توریت شریف میں بزبان عبرانی حضور انور کے بعض صفات ایسے مذکور ہیں جو قرآن کریم میں مذکور صفات کے بالکل مطابق ہیں۔
۴؎جیسے قرآن مجید میں گذشتہ نبیوں کو پکارا گیا ہے ایسے ہی توریت شریف میں حضور صلی الله علیہ وسلم کو بھی پکارا گیا تھا۔جس آیت توریت کا یہ ترجمہ ہے اس میں حضور انور کو پکار کر حضور کے اوصاف بیان کیے گئے اور مخلوق کو سنائے گئے ہیں،کہیں توریت میں اہل کتاب کو پکار کر حضور کے اوصاف سنائے گئے۔
۵؎یہ آیتِ کریمہ جزوی طور پر قرآن مجید میں موجود ہے،اس کی تفسیر ہماری کتاب شان حبیب الرحمن میں دیکھو۔شاہد یا بنا ہے شہود سے تو اس کے معنی ہیں حاضر،یا مشاہدہ سے تو معنی ہیں ناظر،یا شہادت سے تو معنی ہیں گواہ۔حضور دنیا میں الله کی ذات و صفات سارے عالم غیب کے گواہ ہیں،پچھلے نبی سن کر گواہ تھے حضور انور عینی گواہ کہ سب کچھ دیکھ کر آئے اور گواہی دی اسی لیے آپ کے بعد کوئی نبی نہیں کہ عینی گواہ پر گواہی ختم ہوجاتی ہے،سمعی گواہ پر عینی گواہ کا انتظار رہتا ہے۔آخرت میں حضور رب کے سامنے اپنی امت کے عقائد اعمال اقوال کے عینی گواہ،سارے نبیوں انکی امتوں کے ہر حال کے عینی گواہ ہیں،نیز دنیا میں لوگوں کے انجام کے گواہ ہیں کہ کون مؤمن مرے گا کون کافر،مؤمنوں میں کون صدیق ہے کون فاروق،کون کس عہدے پر ہے۔غرض کہ حضور کی گواہی بہت اعلیٰ اور جامع ہے۔شاہد بمعنی محبوب یعنی عشاق کے دل میں رہنے والے بھی ہیں۔
۶؎سارے نبیوں نے سن کر بشارت دی اور ڈرایا حضور انور نے جنت و دوزخ کی سیر فرماکر ہرشخص کا ٹھکانہ مکان جگہ دیکھ کر بشارت دی اور ڈرایا۔یہ فرق ہے حضور کی بشارت و نذارت اور دوسرے نبیوں کی بشارت و نذارت میں۔
۷؎حضور صلی الله علیہ وسلم اپنی امت کے لیے ایک مضبوط قلعہ ہیں کہ آپ کے دامن میں امت پناہ لیے ہوئے ہے۔امیینکے معنی یا تو ہیں امّ القریٰ والے یعنی مکہ کے لوگ یا بے پڑھے لوگ کیونکہ اہل عرب عمومًا بے پڑھے تھے اس زمانہ میں،یا اس کے معنی ہیں نبی امّی والے یعنی ساری امت کے رسول الله،یہ تیسرے معنی بہت موزوں ہیں کہ اس میں ساری امت داخل ہے۔(مرقات)حضور کا پناہ ہونا توریت میں مذکور تھا؎یارسول الله بدرگاہت پناہ آور دہ ام ہمچو کا ہے آمدم کو ہے گناہ آوردہ ام
۸؎حضور انور بھی الله کے عبد ہیں اور ہم بھی الله کے عبدوبندے ہیں مگر دونوں کی عبدیت میں فرق یہ ہے کہ ہم کو ناز ہے کہ ہم الله کے بندے ہیں اور دستِ قدرت کو ناز ہے کہ حضور انور میرے بندے ہیں"هُوَ الَّذِیۡۤ اَرْسَلَ رَسُوۡلَہٗ"الخ ڈاکٹر اقبال کہتے ہیں؎عبد دیگر عبدہٗ چیزے دگر ایں سراپا انتظار او منتظر
سارے بندے الله کی رحمت کا انتظار کرتے ہیں اور الله کی رحمت حضور انور کا انتظار کرتی ہے۔توریت میں حضور کا نام متوکل تھا کیونکہ حضور نے اتنا بڑا تبلیغ کا کام کیابغیر ظاہری سہارے کے۔بھائی کوئی نہیں،ماں باپ بچپن شریف میں رخصت ہوگئے،جو اقرباء تھے وہ دشمن تھے،ایسے ناسازگار حالات میں دنیا کی کایا پلٹ دینا غیبی طاقت نہیں تو اور کیا ہے۔
۹؎حضور جیسا نرم دل،حضور جیسا شیریں گفتار،حضور جیسا نیک کردار آسمان نے نہ دیکھا آسمان تو کیا خالق دو جہاں نے نہ دیکھا کیونکہ اس نے ایسا کوئی بندہ پیدا ہی نہیں کیا پھر دیکھنے کے کیا معنی۔حضور وہ ہیں جنہوں نے ابو سفیان ہندہ، عکرمہ،وحشی کو معاف فرمایا،لوگوں کی گالیاں سن کر دعائیں دینے والے رسول ہیں صلی الله علیہ وسلم؎سلام اس پرکہ جس نےخوں کےپیاسوں کوقبائیں دیں سلام اس پرکہ جس نےگالیاں سن کر دعائیں دیں
حضور بازار میں تشریف لے جاتے تھے مگر وہاں شور کے لیے نہیں بلکہ تبلیغ احکام کے لیے اسی لیے یہاںسخابکی نفی فرمائی نہ کہذھابیعنی جانے کی۔
۱۰؎یہاں ذاتی برائی کرنے والوں کا ذکر ہے۔حضور انور نے اپنے ذاتی دشمن سے بدلہ نہ لیا معافی دی مگر دینی قومی ملکی دشمن کو معاف نہ کیا ضرور سزا دی۔وحشی عکرمہ وغیرہم کو معافی دے دی کہ وہ دشمن ذاتی تھے مگر فاطمہ مخذومیہ نے چوری کرلی تو اسے ہرگز معاف نہ فرمایا ہاتھ کٹوادیا کہ وہ دینی قانون کی مجرمہ تھی،یہ فرق ضرور خیال میں رہے۔آج ہمارا عمل برعکس ہے معافی اور بخشش میں بڑا فرق ہے،رب فرماتاہے:"اِدْفَعْ بِالَّتِیۡ هِیَ اَحْسَنُ"حضور کی زندگی شریف اس آیت کی تفسیر ہے۔ مرقات نے فرمایا کسی کا عیب چھپالینا مغفرت ہے اور سزا نہ دینا معافی ہے۔حضور الله تعالٰی کی صفات کے مظہر ہیں،الله تعالٰی عفو بھی ہے اور غفور بھی ہے،حضور کو یہ صفات رب نے پوری پوری عطا فرمائی ہیں۔
۱۱؎ٹیڑھے دین سے مراد ملت ابراہیمی ہے جس میں کفار مکہ نے زیادتی کمی کرکے اسے ٹیڑھا کردیا۔حضور صلی الله علیہ وسلم نے ان تمام برائیوں کو دور کرکے جیسی وہ ملت تھی اسے ویسا کردیا یہ ہے اس ملت کا سیدھا کرنا۔(مرآت)یہ شرح بہت اعلٰی ہے۔
۱۲؎لا الہکہنے سے مراد ہے سارے اسلامی عقیدے مان لینا جیسے کہا جاتا ہے کہ نماز میںالحمدپڑھنا واجب ہے یعنی ساری سورۂ فاتحہ۔
۱۳؎یعنی حضور کے ذریعہ سےلوگوں کو کلمہ طیبہ نصیب ہوگا اور کلمہ طیبہ کے ذریعہ لوگوں کی اندھی آنکھیں روشن، بہرے کان سننے والے،غافل دل جاگ جائیں گے۔بعض روایات میںبھاکی بجائےبہیعنی حضور انور کے ذریعہ یہ تین نعمتیں ان کو ملیں گی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5752