Main Icon

باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5775

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ وَأُمِرْتُ بِصَلَاةِ الضُّحٰى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا". رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كتب علي النحر ولم يكتب عليكم وأمرت بصلاة الضحى ولم تؤمروا بها". رواه الدارقطني.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھ پر قربانی فرض کی گئی تم پرفرض نہیں کی گئی ۱؎اور میں چاشت کی نماز کا حکم دیا گیا ہوں تم کو اس کاحکم نہیں دیاگیا۲؎(دارقطنی)

شرح حدیث

۱؎یعنی ہم میں تم میں شرعی احکام میں بھی فرق ہے کہ تم میں سے جوشخص امیر ہو اس پر قربانی فرض نہیں بلکہ واجب ہے، غریب پر واجب بھی نہیں مگر ہم پر بہرحال فرض ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم پر زکوۃ فرض نہیں(شامی)یا اس لیے کہ آپ کا مال وقف ہے اور وقف میں زکوۃ نہیں(شامی)یا اس لیے کہ ساری امت حضور صلی الله علیہ وسلم کی لونڈی غلام ہے اور اپنے غلام لونڈی کو زکوۃ نہیں دی جاسکتی آپ کے لیے مصرف موجود نہیں۔(شیخی و مرشدی مولانا نعیم الدین صاحب)فقیر کے نزدیک یہ وجہ قوی ہے ورنہ آپ پر قربانی فرض نہ ہوتی،مال وقف سے قربانی نہیں دی جاتی حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمان اس آیت کی طرف اشارہ ہے"فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ۲؎حضور صلی الله علیہ وسلم پر چھ نمازیں فرض تھیں پانچ تو یہ نمازیں چھٹی نماز تہجد،رب فرماتاہے:"وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّكَ"آیت کریمہ میںنافلہبمعنی زائدہ ہے یعنی مسلمانوں پر پانچ نمازیں فرض ہیں آپ پر نماز تہجد زائد فرض ہے۔چنانچہ ہمارے لیے ارکان ایمان پانچ ہیں حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیے چار یعنی زکوۃ فرض نہیں، ہم پر نمازیں پانچ حضور صلی الله علیہ وسلم پر چھ یعنی تہجد بھی فرض ہے۔خیال رہے کہ پنجگانہ نمازیں اطاعت کی ہیں جو ہمارے لیے آئیں اور نماز تہجد نماز عشق ہے جو حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے لیے آئی۔ہم حضور صلی الله علیہ وسلم کی طفیل یہ نماز پڑھ لیتے ہیں اور نماز چاشت حضور صلی الله علیہ وسلم پر ایک بار پڑھنا فرض تھی اس کی زیادتی مستحب تھی لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے کبھی کبھی ہی نماز چاشت پڑھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5775