Main Icon

باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5749

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِيْ أُوتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِيْ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «بعثت بجوامع الكلم ونصرت بالرعب و بينا أنا نائم رأيتني أوتيت بمفاتيح خزائن الأرض فوضعت في يدي» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جامع باتوں کے ساتھ بھیجا گیا اور ہیبت سے میری مدد کی گئی جبکہ میں سو رہا تھا تو میں نے اپنے کو دیکھا کہ میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں تو میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے الله تعالٰی نے زمین کے سارے خزانوں کی چابیاں عطا فرمائیں۔خیال رہے کہ تمام زمینی اور دریائی پیداواریں زمینی خزانے ہیں۔ان کی چابیاں آپ کو دیئے جانے کے معنی یہ ہیں کہ آپ کو ان سب کا مالک بنادیا اور مالک بھی اختیار والا کہ آپ لوگوں کو اپنے اختیار سے تقسیم فرمادیں؎کنجی تمہیں دی اپنے خزانوں کی خدا نے ہر کار بنایا تمہیں مختار بنایا
بے یار و مددگار جسے کوئی نہ پوچھے ایسوں کا تمہیں یار و مددگار بنایا
اس حدیث کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہے"
اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیۡنًا"حضور بہ عطاء الٰہی الله کے سارے خزانوں کے مالک ہیں،حضرت ربیعہ ابن کعب نے حضور سے جنت مانگی جو منظور فرمالیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5749