Main Icon

باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5763

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنِّي قَائِلٌ قَوْلًا غَيْرَ فَخْرٍ: إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ اللّٰهِ ، ومُوسٰى صَفِيُّ اللّٰهِ ، وَأَنَا حَبِيبُ اللّٰهِ وَمَعِي لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ اللّٰهَ وَعَدَنِي فِي أُمَّتِي وَأَجَارَهُمْ مِنْ ثَلَاثٍ: لَايَعُمُّهُمْ بِسَنَةٍ وَلَا يَسْتَأْصِلُهُمْ عَدُوٌّ وَلَا يَجْمَعُهُمْ عَلٰى ضَلَالَةٍ ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

وعن عمرو بن قيس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " نحن الآخرون ونحن السابقون يوم القيامة وإني قائل قولا غير فخر: إبراهيم خليل الله ، وموسى صفي الله ، وأنا حبيب الله ومعي لواء الحمد يوم القيامة وإن الله وعدني في أمتي وأجارهم من ثلاث: لايعمهم بسنة ولا يستأصلهم عدو ولا يجمعهم على ضلالة ". رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن قیس ۱؎سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری ہیں اور ہم قیامت کے دن اول ہوں گے۲؎اور میں ایک بات کہتاہوں مگر فخر نہیں کہ ابراہیم علیہ السلام الله کے خلیل ہیں،موسیٰ علیہ السلام الله کے برگزیدہ ہیں ۳؎اور میں الله کا محبوب ہوں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے پاس ہوگا۴؎الله نے مجھے میری امت کے بارے میں وعدہ فرمالیا ہے اور انہیں تین آفتوں سے امان دی ہے ان پر عام قحط نہ بھیجے گا،انہیں کوئی دشمن جڑ سے نہ اکھیڑے گا،انہیں گمراہی پر جمع نہ کرے گا۵؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عبدالله ابن ام مکتوم ہے،آپ کے والد کا نام قیس ماں کا نام عاتکہ ہے جو حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی خالہ ہیں، آپ مشہور صحابی ہیں،نابینا تھے،حضور انور نے بہت موقعوں پر مدینہ منورہ کا خلیفہ وقتی آپ کو بنایا،قوی یہ ہے کہ عہد فاروقی میں قادسیہ میں شہید ہوئے۔
۲
؎یعنی دنیا میں سب نبیوں سے آخر ہمارا ظہور ہوا،کتاب آخری یعنی قرآن ہم کو ملی،آخری کلمہ ہمارا جاری ہوا،آخری ملت آخری امت ہماری ہے،قیامت میں ہر جگہ اولیت کا سہرا ہمارے سر ہوگا،اول شفیع ہم،جنت میں پہلے داخلہ ہمارا پھر دوسرے نبیوں کا، ساری امتوں میں پہلے ہماری امت جنت میں جاوے گی پھر دوسری امتیں۔غرضکہ"هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ"مخلوق میں ہم ہیں اس کی تحقیق ہماری کتاب شان حبیب الرحمن میں ملاحظہ کرو۔
۳
؎یہاںصفیلغوی معنی میں ہے یعنی چنے ہوئے جنہیں الله تعالٰی نے اپنے کلام کے لیے چن لیا ورنہ صفی الله حضرت آدم علیہ السلام کا لقب ہے آپ کا لقب کلیم الله ہے۔
۴
؎ان تمام فرمانوں کی شرح ابھی کچھ پہلے ہم عرض کرچکے ہیں۔حمد سے مراد یا تو حامدیت ہے کہ سب سے زیادہ حمد الٰہی حضور کریں گے اس لیے آپ کا نام پاک احمد ہے،یا مراد محمودیت ہے کہ اس دن سب سے زیادہ حمد حضور ہی کی ہوگی اسی لیے آپ کا نام پاک محمد ہے صلی الله علیہ وسلم۔محمودیت کا ظہور دنیا میں بھی ہو رہا ہے،جتنی حمدوثناء حضور کی ہوئی اور ہو رہی ہے اتنی کسی کی نہ ہوئی،ہر زبان میں آپ کے نعتیہ قصیدے بھی ہیں اور نعتیہ کلام بھی۔
۵
؎یعنی میری امت میں اختلافات ہوں گے مگر سارے گمراہ نہ ہوں گے ایک جماعت ضرور حق پر رہے گی،وہ ہی سب پر غالب ہوگی،سواد اعظم یعنی بڑا گروہ وہ ہی ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5763