Main Icon

باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5743

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ. فَيَقُولُ: بِكَ أُمِرْتُ أَنْ لَا أَفْتَحَ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " آتي باب الجنة يوم القيامة فأستفتح فيقول الخازن: من أنت؟ فأقول: محمد. فيقول: بك أمرت أن لا أفتح لأحد قبلك ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن جنت کے دروازے پر میں آؤں گا دروازہ کھلواؤں گا تو خازن جنت کہے گا آپ کون ہیں میں کہوں گا محمد ہوں ۱؎وہ عرض کرے گا کہ مجھے آپ کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ آپ سے پہلے کسی کے لئے نہ کھولوں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس کھلوانے میں اور پہلے سے کھلے ہوئے نہ ہونے میں یہ ہی دکھانا ہے کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اتفاقًا حضور انور نے کھلوادیا اور نبی بھی اگر کھلواتے تو کھل جاتا۔
۲
؎یہ ہے"اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیۡنًا"کا ظہور،ہر دروازہ حضور کے ہاتھ سے ہی کھلے گا۔پہلا دروازہ شفاعت سے کھلے گا،دروازۂ رحمت دروازۂ مغفرت دروازۂ جنت حضور کے ہاتھ سے کھلیں گے۔اعلیٰ حضرت نے فرمایا؎تم سے جہاں کا وجود تم سے کھلا باب جود
تم سے ملا جو ملا تم پہ کروڑوں درود

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5743