باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5754
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَأَطَالَهَا. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّيتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا قَالَ: «أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ وَإِنِّي سَأَلْتُ اللّٰهَ فِيهَا ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهٗ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهٗ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهٗ أَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
عن خباب بن الأرت قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة فأطالها. قالوا: يا رسول الله صليت صلاة لم تكن تصليها قال: «أجل إنها صلاة رغبة ورهبة وإني سألت الله فيها ثلاثا فأعطاني اثنتين ومنعني واحدة سألته أن لا يهلك أمتي بسنة فأعطانيها وسألته أن لا يسلط عليهم عدوا من غيرهم فأعطانيها وسألته أن لا يذيق بعضهم بأس بعض فمنعنيها» . رواه الترمذي والنسائي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت خباب ابن ارت سے ۱؎فرماتے ہیں ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو اسے بہت دراز فرمایا ۲؎صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے ایسی نماز پڑھی جو کبھی نہ پڑھتے تھے۳؎فرمایا ہاں یہ نماز رغبت اور ڈر کی ہے۴؎میں نے اس میں اللہ سے تین چیزیں مانگیں تو اس نے مجھے دو عطا فرمادیں اور ایک سے منع فرمادیا ۵؎میں نے اس سے مانگا کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ فرمائے اس نے مجھے عطا فرمادیا اور میں نے اس سے مانگا کہ ان پر ان کا غیر دشمن مسلط نہ فرمائے ۶؎مجھے عطا فرما دیا اور میں نے اس سے مانگا کہ ان کے بعض کو بعض کی سختی نہ چکھائے اس سے مجھے منع فرمادیا ۷؎(ترمذی،نسائی)
۱؎آپ مشہور صحابی ہیں،پرانے مؤمن ہیں،حضور کے دار ارقم میں تشریف لے جانے سے پہلے اسلام سے مشرف ہوئے،کفار کی ایذا پر بہت صبر کیا،بدر میں شریک ہوئے،کوفہ میں سب سے پہلے وہ مسلمان ہیں جن کی وفات ہوئی،حضرت علی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی،کوفہ میں ہی آپ کا مزار شریف ہے۔(اشعہ)
شرح حدیث
۲∞؎یا تو اس طرح دراز فرمایا کہ اس نماز کے سارے ارکان دراز کئے یا اس طرح کہ اس میں دعا دراز مانگی،دیکھو مرقات۔یا سجدہ دراز کیا اور سجدہ میں دعا طویل مانگی،نوافل کے سجدہ میں دعا مانگنا جائز ہے یہ نماز نفل ہی تھی جو اس کے لیے ادا کی گئی تھی۔
۳؎یعنی اس وقت آپ نماز کبھی نہ پڑھتے تھے ایسی دراز اور لمبی نماز آپ کبھی نہ پڑھتے تھے اس صورت میں دن کی نماز مراد ہوگی کیونکہ حضور انور تہجد کی نماز تو بہت ہی دراز پڑھتے تھے۔
۴؎یعنی دوسری نمازوں میں یا امید غالب ہوتی ہے یا خوف الٰہی غالب مگر اس نماز میں امید و خوف دونوں کامل طور پر جمع تھے۔ جب نماز ایسی میسر ہو تو اسے خوب دراز پڑھنا چاہیے تاکہ خوف و امید کا کمال دیر تک رہے۔خیال رہے کہ یہاں امید و خوف سے مراد ہے اپنی امت کے متعلق امید و خوف،ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی محبوبیت مقبولیت کا یقین ہے وہاں نہ محض امید کی گنجائش ہے نہ خوف کی۔یا مطلب یہ ہے کہ اس نماز میں جو دعا مانگی اس کی قبولیت کی امید تھی اور انکار کا خطرہ،چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ دو دعائیں قبول ہوئیں اور تیسری دعا سے روک دیا گیا۔
۵؎منع فرمانے کے وہ ہی معنی ہیں کہ مجھے یہ دعا مانگنے سے منع فرما دیا اس میں دعا کا رد نہیں ہے،رد دعا اور چیز ہے منع عن الدعاء کچھ اور چیز،منع میں محبوبیت کی شان ظاہر ہوتی ہے۔
۶؎غیر سے مراد کفار ہیں اور مسلط کرنے سے مراد ہے مسلمانوں پر اس طرح چھا جانا کہ مسلمانوں کو وہ بالکل ہلاک کردیں کہ کوئی مسلمان نہ بچے جیساکہ پہلےگزرا،آج تک نہ تو ایسا ہوا ہے اور نہان شاءاللهایسا ہوگا۔
۷؎اس کی شرح پہلے ہوچکی ہے کہ مسلمانوں میں آپس کی جنگیں تو رہیں گی۔چنانچہ خلافت عثمانی کے آخر دور میں مسلمانوں میں جنگ ہوئی سب سے پہلے حضرت عثمان غنی شہید کیے گئے،اس دن کی میان سے نکلی ہوئی تلوار آج تک میان میں نہ گئی،ہر دور میں مسلمان آپس میں لڑتے بھڑتے ہی رہے،خلافت حیدری میں مسلمانوں کا آپس میں جو کشت و خون ہوا وہ سب کو معلوم ہے،تمام جنگوں میں فریقین کے قریبًا اسّی ہزار مسلمان قتل ہوئے۔معالم التنزیل میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی"قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤی اَنۡ یَّبْعَثَ عَلَیۡکُمْ عَذَابًا مِّنۡ فَوْقِکُمْ"تو حضور انور نے عرض کیااعوذ بوجھكپھر فرمایا گیا"اَوْ مِنۡ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ"عرض کیااعوذ بوجھكپھر فرمایا"اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیۡقَ بَعْضَکُمۡ بَاۡسَ بَعْضٍ"حضور انور نے عرض کیاالٰہی ھذا اھون ھذا ایسرالٰھیآسمانی عذاب اور زمینی عذابوں سے یہ آپس کی جنگوں کا عذاب آسان ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5754