باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5762
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ حَتّٰى إِذَا دَنَا مِنْهُمْ سَمِعَهُمْ يَتَذَاكَرُونَ قَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ اللّٰهَ اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا وَقَالَ آخَرُ:مُوسٰى كَلَّمَهُ اللّٰهُ تَكْلِيمًا وَقَالَ آخَرُ: فَعِيسٰى كَلِمَةُ اللهِ وَرُوحُهٗ. وَقَالَ آخَرُ: آدَمُ اصْطَفَاهُ اللّٰهُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «قَدْ سَمِعْتُ كَلَامَكُمْ وَعَجَبَكُمْ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلُ اللهِ وَهُوَ كَذٰلِكَ وَمُوْسٰى نَجِيُّ اللّٰهِ وَهُوَ كَذٰلِكَ وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللّٰهُ وَهُوَ كَذٰلِكَ أَلَا وَأَنَا حَبِيبُ اللّٰهِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَهٗ آدَمُ فَمَنْ دُونَهٗ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّكُ حِلَقَ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُ اللّٰهُ لِي فَيُدْخِلُنِيهَا وَمَعِي فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ عَلَى اللّٰهِ وَلَا فَخْرَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ
وعن ابن عباس قال: جلس ناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج حتى إذا دنا منهم سمعهم يتذاكرون قال بعضهم: إن الله اتخذ إبراهيم خليلا وقال آخر:موسى كلمه الله تكليما وقال آخر: فعيسى كلمة الله وروحه. وقال آخر: آدم اصطفاه الله فخرج عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: «قد سمعت كلامكم وعجبكم أن إبراهيم خليل الله وهو كذلك وموسى نجي الله وهو كذلك وآدم اصطفاه الله وهو كذلك ألا وأنا حبيب الله ولا فخر وأنا حامل لواء الحمد يوم القيامة تحته آدم فمن دونه ولا فخر وأنا أول شافع وأول مشفع يوم القيامة ولا فخر وأنا أول من يحرك حلق الجنة فيفتح الله لي فيدخلنيها ومعي فقراء المؤمنين ولا فخر وأنا أكرم الأولين والآخرين على الله ولا فخر» . رواه الترمذي والدارمي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ بیٹھے ۱؎پھر حضور انور تشریف لائے حتی کہ ان حضرات سے قریب ہوگئے ۲؎تو انہیں کچھ تذکرہ کرتے سنا۳؎ان میں سے بعض نے کہا کہ الله نے حضرت ابراہیم کو اپنا دوست بنایا، دوسرے صاحب بولے کہ الله نے حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا۴؎ایک اور صاحب بولے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام الله کا کلمہ اس کی روح ہیں۵؎ایک دوسرے نے کہا آدم کو الله نے برگزیدہ کرلیا ۶؎تب ان کے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے ۷؎اور فرمایا کہ ہم نے تمہاری گفتگو اور تمہارا تعجب کرنا سنا۸؎یقینًا ابراہیم الله کے خلیل ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں اور موسیٰ علیہ السلام راز کی بات کرنے والے ہیں ۹؎واقعی وہ ایسے ہی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام الله کی روح اور کلمہ وہ ایسے ہی ہیں،آدم کو الله نے چن لیا واقعی وہ ایسے ہی ہیں ۱۰؎مگر خیال رکھو کہ میں الله کا محبوب ہوں۱۱؎فخریہ نہیں کہتا قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میں ہی اٹھائے ہوں گا جس کے نیچے آدم اور ان کے سواء ہوں گے فخریہ نہیں کہتا میں پہلا شفاعت کرنے والا اور پہلا مقبول الشفاعت قیامت کے دن میں ہوں فخریہ نہیں کہتا میں پہلا وہ شخص ہوں جو جنت کی زنجیر ہلائے گا ۱۲؎تب الله کھولے گا پھر اس میں مجھے داخل کرے گا۱۳؎میرے ساتھ فقراء مسلمان ہوں گے۱۴؎فخریہ نہیں کہتا میں سارے اگلے پچھلوں میں الله پر زیادہ عزت والا ہوں۱۵؎فخریہ نہیں کہتا۔ (ترمذی،دارمی)
شرح حدیث
۱∞؎مسجد نبوی شریف میں بیٹھے یا کسی اور جگہ یوں ہی آپس میں بات چیت کرنے کے لیے۔دیکھو حضرات صحابہ کے دن رات کی آپس کی گفتگو کیسی ہوتی تھی اور ان کی مجلسیں کیسی پیاری ہوا کرتی تھیں،ہماری مجلسیں غیبت بہتان،کسی کے خلاف اسکیم سازی کی ہوتی ہیں مگر وہ مجلسیں دینی ہوتی تھیں۔
۲؎اس وقت حضور انور ان حضرات سے قریب تو ہوئے مگر ان پر ظاہر نہ ہوئے ورنہ وہ حضرات اپنی گفتگو بند کردیتے۔ معلوم ہوا کہ آقا اپنے غلاموں کی بات چیت چھپ کر سن سکتا ہے اور اس کی اصلاح بھی کرسکتا ہے،یہ تجسس نہیں بلکہ اصلاح اور تبلیغ ہے۔تجسس کہتے ہیں کسی کی عیب جوئی کرنا یہ ممنوع ہے،رب فرماتاہے:"وَ لَا تَجَسَّسُوۡا"۔
۳؎ان حضرات کی گفتگو اس بارے میں تھی کہ کون نبی افضل ہیں۔بعض نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں کیونکہ انہیں الله نے خلیل بنایا،رب فرماتاہے:"وَاتَّخَذَ اللهُ اِبْرٰهِیۡمَ خَلِیۡلًا"خلیل کے معنی اور خلیل وحبیب میں فرقان شاءاﷲابھی ہم عرض کرتے ہیں۔
۴؎یعنی الله تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام سے ان کی زندگی شریف میں کوہ طور پر بغیر واسطہ فرشتہ کلام کیا اور کئی بار کیا اسی لیے ان کا لقب ہے کلیم الله لہذا وہ ہی تمام نبیوں سے افضل ہونے چاہئیں۔خیال رہے کہ کلیم کے معنی ہیں کہ باربار کلام فرمانا،الله تعالٰی نے آپ سے پہلے تو عطا نبوت کے وقت کلام کیا"وَمَا تِلْكَ بِیَمِیۡنِكَ یٰمُوۡسٰی"پھر بارہا انہیں کوہ طور پر بلاکر کلام فرمایا،یہ بیداری میں تھا باقی نبیوں سے ایسے بےواسطہ کلام نہ ہوا۔مگر خیال رہے کہ یہ کلام تھا حجابانہ،ہمار ے حضور سے معراج میں ملے،بےحجابانہ کلام کیا،وہاں دیدار کے ساتھ گفتار تھی"فَكَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ اَوْ اَدْنٰی"۔؎طور اور معراج کے قصے سے ہوتا ہے عیاں ان سے پردہ تھا خدا کا آپ سے پردہ نہ تھا
۵؎یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو رب نے ذاتی خوبی یہ بخشی کہ آپ کی پیدائش مرد یا عورت کے نطفہ سے نہیں ہوئی بغیر واسطۂ نطفہ،رب نے حضرت مریم کے پیٹ شریف میں بذریعہ جبریل علیہ السلام کے دم کے آپ کا جسم بنایا،چونکہ آپ روح الامین کے دم سے پیدا ہوئے اس لیے آپ کا لقب روح الله ہے اور چونکہ حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک کلمہ کہہ کر دم کیا تھا اس لیے آپ کا لقب کلمۃالله ہے۔اسی لیے آپ کلمہکنفرما کر مردے میں روح ڈال دیتے تھے،بیمار اچھے کردیتے تھے کیونکہ آپ روح الامین کے ایک کلمہ کے ذریعہ پیدا ہوئے اس لیے چاہیے کہ آپ تمام نبیوں سے افضل ہوں۔
۶؎یعنی الله تعالٰی نے چند خصوصیتوں میں آدم علیہ السلام کو ممتاز فرمایا ،آپ کو ابو البشر بنایا،آپ کو ساری چیزوں کے نام بتائے، آپ کو فرشتوں سے سجدہ کرایا،آپ کو اپنا خلیفہ بنایا،آپ کو سارے نبیوں کا والد بنایا اس لیے آپ ہی افضل ہونے چاہئیے تھے ان بزرگوں میں کسی نے اپنے محبوب صلی الله علیہ وسلم کے فضائل کا ذکر نہ کیا مگر؎ذکر سب پھیکے جب تک نہ مذکور ہو نمکین حسن والا ہمارا نبی
۷؎یعنی اب حضور انور ان حضرات کے سامنے تشریف لائے اگر پہلے ہی ظاہر ہوجاتے تو وہ حضرات اس آزادی سے گفتگو نہ کرسکتے تھے۔الحمدﷲکہ ان حضرات کے دلائل بھی ہمارے سامنے آگئے اور حضور انور کا فیصلہ بھی سامنے آگیا اب تاقیامت یہ فرمان عالی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ رہے گا۔
۸؎عجبسے مراد ہے ان حضرات کا ان انبیاءکرا م کے درجات عالیہ پر تعجب و حیرت کرنا اور انہیں افضل سمجھنا،وجہ فضیلت میں گفتگوکرنا۔
۹؎نجیبنا ہےنجویسے بمعنی تنہائی میں خفیہ بات کرنا یعنی سرگوشی۔چونکہ موسیٰ علیہ السلام رب تعالٰی سے طور پر بالکل تنہائی میں کلام کرتے تھے اس لیے آپ کو نجی الله فرمایا،آپ کا لقب کلیم الله بھی ہے اور نجی الله بھی۔
۱۰؎سبحان الله!یہ ہے حضور انور کا انصاف والا کلام کسی کی شان کا انکار نہیں فرماتے بلکہ ان حضرات کی یہ شانیں حضور انور نے ہی دنیا کو بتائیں اور ان کے اوصاف عالم میں مشہور کیے۔جس پیغمبر کی جتنی شانیں حضور نے مشہور فرمادیں ان کی صرف اتنی ہی شانیں مشہور ہوئیں،جس نبی کا نام نہ بتایا ان کے نام دنیا سے گم ہوگئے،جن کے اوصاف کا ذکر نہ کیا ان کے اوصاف گم ہوکر رہ گئے۔
مصرعشان یوسف جو بڑھی وہ بھی اس در سے بڑھی
۱۱؎یعنی میں ان تمام مذکورہ صفات کا جامع ہوں کیونکہ الله کا حبیب ہوں،میں خلیل بھی ہوں،کلیم بھی،مشرف بھی ہوں اس کے ساتھ حبیب بھی ہوں۔(مرقات)خیال رہے کہ خلیل و حبیب میں چند طرح فرق ہے: (۱)خلیلبنا ہےخلتسے بمعنی حاجت،حبیببنا ہےحبسے یعنی محبت بمعنی اسم فاعل بھی ہے اور اسم مفعول بھی یعنی محب و محبوب۔خلیل وہ جو رب سے محبت کرے حاجت سے،حبیب وہ جو رب سے محبت کرے بغیرکسی حاجت کے یعنی طالب ذات ہو(۲)خلیل وہ جو مرید ہو طالب ہو،حبیب وہ جو مراد ہو،مطلوب ہو،مجذوب ہو(۳)خلیل وہ جو رب کی رضا چاہے،حبیب وہ کہ رب تعالٰی اس کی رضا چاہے"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰی"اور"فَلَنُوَ لِّیَنَّكَ قِبْلَۃً تَرْضٰىھَا"(۴)خلیل وہ جو رب کی مغفرت و رحمت کا امیدوار ہو،حضرت ابراہیم نے کہا تھا"اَطْمَعُ اَنۡ یَّغْفِرَ لِیۡ"،حبیب وہ کہ رب تعالٰی اسے اپنی رحمت کا یقین دلائے"لِیَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِكَ"
(۵) خلیل وہ جو اپنا ذکر خیر باقی رکھنے کی درخواست کرے"وَاجْعَلۡ لِّیۡ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ"،حبیب وہ جس کا ذکر رب تعالٰی بلند کرے"وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِکْرَكَ"بلکہ اپنے نام کے ساتھ ان کا نام ملائے(۶)خلیل وہ جو رب سے جنت مانگے"وَاجْعَلْنِیۡ مِنۡ وَّ رَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیۡمِ"،حبیب وہ جسے رب جنت دوزخ بلکہ عالم کثرت کا مالک بنادے"اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰكَ الْكَوْثَرَ"۔ (مرقات) (۷)کلیم وہ جو رب سے کلام کرنے طور پر جائے،حبیب وہ جسے رب کلام کرنے کے لیے عرش پر بلائے(۸)خلیل وہ جو باہر کا دوست ہو،حبیب وہ جو درون سرا ہو۔چنانچہ قیامت میں حضرت خلیل فرمائیں گےکنت خلیلا من وراء؎تم تو ہو مغز اور پوست اور ہیں باہر کے دوست تم ہو درون سرا تم پہ کروڑوں درود
(۹)کلیم وہ جو تجلی صفات کی جھلک کی تاب نہ لائے"وَ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا"،حبیب وہ جو عین ذات کبریا دیکھے اور مسکرائے؎موسیٰ ز ہوش رفت بہ یک پر تو صفات تو عین ذات می نگری درتبسمی
(۱۰)کلیم وہ جو جس کی راز دارانہ گفتگو محبوب کو سنا دی جاوے،حبیب وہ جس سے ہمکلامی کی باتیں کسی کو نہ بتائی جاویں(۱۱)کلیم وہ جس کا عصا غضب کا اژدھا ہو،حبیب وہ جس کا عصا گرتوں کا سہارا ہو؎عصاءکلیم اژدھائے غضب تھا گرتوں کا سہارا عصاء محمد
(۱۲)کلیم الله وہ جو رب سے عرض کرے"اَرِنِیۡۤ"اور رب فرمائے"لَنۡ تَرٰىنِیۡ"،حبیب الله وہ جسے رب تقاضوں سے بلائے اپنا دیدار دکھائے ان کو یامحمد فرمائے؎تو بدیں جمال و خوبی سر عرش گر خرامی ارنی بگوید آں کس کہ بگفت لن ترانی
(۱۳)روح الله وہ کہ جب اس کی پاک ماں کو تہمت لگے تو اس کے بچپن شریف کی میٹھی پیاری باتوں کے ذریعہ اس طیبہ طاہرہ کی عصمت بیان کی جائے یعنی اس کا گواہ بچہ ہو،حبیب وہ کہ جب اس کی زوجہ طیبہ طاہرہ کو تہمت لگے تو خود خالق گواہی دے (۱۴)روح الله وہ جس کا دم بے جان جسموں کو چند روز عارضی زندگی بخشے مگر حبیب الله وہ جس کا نام بے جان مردہ دلوں کو دائمی زندگی بخشے اور اس کا یہ فیض تاقیامت جاری رہے(۱۵)روح الله وہ جو مرے ہوئے انسانوں حیوانوں کو زندہ کرے،حبیب الله وہ جو خشک لکڑیوں کنکروں کو زندگی اور گویائی بخش کر ان سے اپنا کلمہ پڑھوائے(۱۶)صفی الله وہ جنہیں ایک بار فرشتے سجدہ کریں،حبیب الله وہ جن پر ہمیشہ الله تعالٰی اور فرشتے درود بھیجیں (۱۷)صفی الله وہ جو اجسام کے والد ہیں،حبیب الله وہ ارواح کے والد ہیں(۱۸)صفی الله وہ جو سارے انسانوں کے والد ہیں،حبیب الله وہ جو سارے عالم کی اصل ہیں جن کے نور سے عرش و فرش لوح قلم وغیرہ بنے(۱۹)صفی الله وہ جنہیں الله نے چیزوں کا نام سکھایا"وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّھَا"،حبیب الله وہ جسے رحمن نے قرآن سکھایا "اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ"۔
۱۲؎حلق جمع ہے حلقہ کی اور حلقہ کہتے ہیں چھلے یا زنجیر کی کڑی کو،یہ کڑیاں اور چھلے مل کر زنجیر بنتی ہے،زنجیر ہلانے سے مراد ہے دروازہ کھلوانا اپنی آمد کی اطلاع دے کر۔
۱۳؎ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ سارے نبی اور ان کی امتیں جنت کے دروازہ پر حضور انور سے پہلے پہنچ جائیں گے، حضور انور اپنے گنہگاروں کو بخشوانے،نیکیوں کے ہلکے پلے بھاری کرانے،صراط پر گرتوں کو سنبھالنے میں مصروف ہوں گے مگر دروازہ جنت بند ہوگا داروغہ جنت دروازے کے اندر ہوگا کسی کو زنجیر ہلانے بجانے کی جرأت نہ ہوگی،ہمت و جرأت والے نبی کا انتظار ہوگا حضور پہنچ کر دروازہ کھلوائیں گے۔
۱۴؎اس فرمان عالی کی شرح وہ حدیث ہے کہ فقراء بمقابلہ اغنیاء کے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے۔خیال رہے کہ یہاں فقیر سے مراد محتاج الی الخلق نہیں،یہ فقیری تو نفس کی ہے جس سے حضور انور نے پناہ مانگی ہے بلکہ اس سے مراد محتاج الی الله جسے حضور انور نے اپنے لیے فخر فرمایاالفقر فخری۔صوفیاء کہتے ہیں کہ فقیر وہ ہے جو عدم کے وقت صابر ہے وجود کے وقت باذل و سخی ہو۔(مرقات)لہذا اس سے لازم یہ نہیں آتا کہ حضرت عثمان غنی جنت میں آخر میں پہنچیں گے کیونکہ وہ مال کے غنی تھے دل کے فقر والے۔
۱۵؎یہ فرمان عالی گذشتہ سارے مضمون کا تتمہ یا اس کی وجہ ہے الله تعالٰی نے حضور جیسا عزت والا کوئی پیدا ہی نہیں کیا،حضور نے جس پر نگاہ کرم کردیں وہ عزت والا ہوجاوے،خدا تعالٰی کے بعد حضور ہی عزت والے ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5762