Main Icon

باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5766

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَأُكْسٰى حُلَّةً مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ يَقومُ ذٰلِكَ الْمَقَامَ غَيْرِي". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ "جَامِعِ الأُصُولِ" عَنهُ:«أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ فَأُكْسٰى»

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «فأكسى حلة من حلل الجنة ثم أقوم عن يمين العرش ليس أحد من الخلائق يقوم ذلك المقام غيري". رواه الترمذي. وفي رواية "جامع الأصول" عنه:«أنا أول من تنشق عنه الأرض فأكسى»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا پھر مجھے جنتی جوڑا پہنایا جاوے گا ۱؎پھر میں عرش کی داہنی طرف کھڑا ہوں گا ۲؎مخلوق میں میرے سوا کوئی نہیں جو اس جگہ کھڑا ہو۳؎(ترمذی)اور جامع الاصول کی روایت میں ہے اور انہیں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس کی قبر کھلے گی پھر مجھے جوڑا پہنایا جاوے گا

شرح حدیث

۲∞؎یعنی میرا یہ خاص مقام جہاں میں تشریف فرما ہوں گا عرش اعظم کی داہنی جانب ہوگا،اس مقام پر میرے سواء کوئی نہ ہوگا،یہ مطلب نہیں کہ عرش کی داہنی طرف سواء میرے کوئی نہ ہوگا اس دن جب کافرو مؤمن میں چھانٹ ہوگی اور ارشاد ہوگا" وَامْتَازُوْا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْنَ"تو مؤمن عرش اعظم کی داہنی طرف کھڑے ہوجائیں گے کفار بائیں طرف رب فرماتاہے:"وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیۡنِ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیۡنِ"اس آیت کے ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں یعنی عرش اعظم کی داہنی جانب والے۔
۳
؎کھڑے ہونے سے مراد ہے تشریف فرما ہونا،یہ مقام وسیلہ ہے یا مقام محمود،وسیلہ مقام پر حضور صلی الله علیہ وسلم سب کی شفاعت کریں گے اور مقام محمود پر سب حضور کی تعریفیں کریں گے حتی کہ رب تعالٰی بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5766