باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5771
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ كَعْبٍ يَحْكِي عَنِ التَّوْرَاةِ قَالَ: نَجِدُ مَكْتُوبًا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، عَبْدِي الْمُخْتَارُ لَا فَظٌّ غَلِيظٌ، وَلَا سَخَّابٌ فِي الأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلٰكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ مَوْلِدُهٗ بِمَكَّةَ وَهِجْرَتُهٗ بِطَيبَةَ وَمُلْكُهٗ بِالشَّامِ وَأُمَّتُهُ الحَمَّادُونَ يَحْمَدُونَ اللّٰهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ يَحْمَدُونَ اللّٰهَ فِي كُلِّ مَنْزِلَةٍ وَيُكَبِّرُونَهٗ عَلٰى كُلِّ شَرَفٍ رُعَاةٌ لِلشَّمْسِ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ إِذَا جَاءَ وَقْتُهَا يَتَأَزَّرُونَ عَلَى أَنْصَافِهِمْ، وَيَتَوَضَّؤُونَ عَلٰى أَطْرَافِهِمْ مُنَادِيهِمْ يُنَادِي فِي جَوِّ السَّمَاءِ صَفُّهُمْ فِي الْقِتَالِ وَصَفُّهُمْ فِي الصَّلَاةِ سَوَاءٌ لَهُمْ بِاللَّيْلِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ «. هٰذَالَفْظُ» الْمَصَابِيحِ " وَرَوَى الدَّارِمِيُّ مَعَ تَغْيِيرٍ يَسِيرٍ.
وعن كعب يحكي عن التوراة قال: نجد مكتوبا محمد رسول الله، عبدي المختار لا فظ غليظ، ولا سخاب في الأسواق ولا يجزي بالسيئة السيئة ولكن يعفو ويغفر مولده بمكة وهجرته بطيبة وملكه بالشام وأمته الحمادون يحمدون الله في السراء والضراء يحمدون الله في كل منزلة ويكبرونه على كل شرف رعاة للشمس يصلون الصلاة إذا جاء وقتها يتأزرون على أنصافهم، ويتوضؤون على أطرافهم مناديهم ينادي في جو السماء صفهم في القتال وصفهم في الصلاة سواء لهم بالليل دوي كدوي النحل «. هذالفظ» المصابيح " وروى الدارمي مع تغيير يسير.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت کعب سے ۱؎وہ توریت سے حکایت کرتے ہیں فرمایا ہم وہاں لکھا پاتے ہیں ۲؎کہ محمد صلی الله علیہ وسلم الله کے رسول ہیں میرے پسندیدہ بندے ہیں ۳؎نہ سخت دل ہیں اور نہ سخت زبان اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے۴؎برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے لیکن معاف فرمادیتے ہیں بخش دیتے ہیں ۵؎ان کی ولادت مکہ میں ہوگی۶؎اور ان کی ہجرت مدینہ میں ۷؎اور ان کا ملک شام میں ۸؎ان کے امتی بہت حمد کرنے والے ہیں،آرام و تکلیف میں الله کی حمدکریں گے اور ہر درجہ میں الله کی حمد کریں گے ۹؎اور ہر بلندی پر الله کی تکبیر کہیں گے۱۰؎سورج کا خیال رکھیں گے ۱۱؎جب نماز کا وقت آوے گا تو نماز پڑھا کریں گے۱۲؎اپنی کمر پر تہبند باندھیں گے۱۳؎اور اپنے اعضاء پر وضو کیا کریں گے۱۴؎ان کا مؤذن آسمان کی فضا میں اذان دیا کرے گا۱۵؎ان کی صف جہاد میں اور ان کی صف نماز میں برابر ہوگی۱۶؎رات میں ان کی گنگناہٹ شہد کی مکھی کی بھنکار کی طرح ہوگی۱۷؎یہ مصابیح کے لفظ ہیں،دارمی نے معمولی فرق سے روایت کی۔
شرح حدیث
۱∞؎محاسنجمع ہےحسنکی،خلاف قیاس اس کے معنی ہیں خوبی عمدگی یا خوب عمدہ اعلیٰ۔افعالجمع ہےفعلکی بمعنی ظاہر اعضاء کے ظاہری کام یعنی ہماری تشریف آوری اس لیے ہے کہ ہم تمام لوگو ں کی دل کی عادتیں بھی اعلٰی درجہ کی کردیں اور ظاہری اعمال بھی،یا ان کے عقیدے بھی ٹھیک کردیں اور اعمال بھی،یا انہیں طریقت بھی سکھادیں شریعت بھی۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ذاتی خوبی کو کرم کہا جاتا ہے،بیرونی خوبی کو کمال۔رب فرماتاہے:"مِنۡ کُلِّ زَوْجٍ كَرِیۡمٍ"یا مقام کریم یا قرآن کریم حضور نے دنیا کی نیت ارادے عقیدے دلی حالات بھی درست فرمائے اور ان کی عبادات معاملات بھی ٹھیک کئے،انسان کو فرشتوں سے آگے بڑھا دیا،عرب کون تھے انہیں کیا کر دیا۔شعر
سب چمک والے اجلوں میں چمکا کئے
اندھے شیشوں میں چمکا ہمارا نبی
حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ الله جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے صدق مقال،اکل حلال،سائلین کی حاجت روائی، امانت کی حفاظت،حیاء اور شرم،پڑوسیوں سے اچھا سلوک،مہمان کی تواضع،بڑوں کا احترام،چھوٹوں کا لحاظ،ماں باپ کی خدمت نصیب فرماتا ہے یہ اخلاق محمدیہ کا ایک کرشمہ ہیں۔(از مرقات)
۲؎آپ مشہور تابعی ہیں،آپ کو کعب احبار کہتے ہیں،یہود کے بڑے عالم توریت کے ماہر تھے،حضور انور کا زمانہ شریف پایا مگر اس زمانہ میں نہ ایمان لائے نہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے،عہد فاروقی میں ایمان لائے،آپ کی کنیت ابو اسحاق ہے،خلافت عثمانیہ میں ۳۲ھ∞ میں مقام حمص میں وفات پائی وہاں ہی دفن ہوئے۔(اکمال)
۳؎مختار کے معنی پسندیدہ بھی ہیں اور اختیار والا بھی حضور،دونوں معنی سے مختار ہیں حضور کو الله نے اپنے خزانوں کا مالک کیا مختار کیا۔مختار تو توریت میں بھی آپ کو کہا گیا ہے۔شعر
کنجی تمہیں دی اپنے خزانوں کی خدا نے
سرکار کیا مالک و مختار بنایا
مختار مقابل ہے مجبور کا،حضور مجبور نہیں مختار ہیں۔
۴؎حضور انور دل کے نرم،زبان کے نرم،طبیعت کے نرم تھے،بازار میں تشریف لے جاتے تھے مگر تبلیغ احکام کے لیے نہ کہ محض سیرو تماشہ کے لیے،یہاں بازار میں جانے کی نفی نہیں بلکہ وہاں گھومنے پھرنے وہاں چیخ و پکار کرنے کی نفی ہے۔
۵؎ہم عفو اور غفر کے فرق پہلے بیان کرچکے ہیں۔چھوٹے گناہ معاف کرنا غفر ہے،حق العباد معاف کرنا عفو ہے،حق الله معاف کرنا غفر،جرم معاف کردینا عفو ہے اور جرم چھپا لینا کہ اس کا کبھی ذکر نہ کیا جاوے تاکہ اسے شرمندگی نہ ہو غفر ہے۔مدارج النبوۃ میں ہے کہ جب عکرمہ ابن ابی جہل ایمان لائے تو حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو تاکید فرمادی کہ عکرمہ کے سامنے کوئی ابوجہل کو برا نہ کہے کہ اس سے فطری طور پر عکرمہ کو تکلیف ہوگی۔خیال رہے کہ ہمارے ہر گناہ میں حق تعالٰی بھی مارا جاتا ہے اور حق الرسول بھی لہذا ہر گناہ کی معافی حضور سے مانگنا جائز ہے کیونکہ ہمارے گناہ سے حضور کو تکلیف ہوتی ہے"عَزِیۡزٌ عَلَیۡهِ مَاعَنِتُّمْ"۔
۶؎خیال رہے کہ حضور کی پیدائش تو مکہ میں ہوئی مگر حضور صلی الله علیہ وسلم کی آمد سارے جہاں میں جیسے سورج رہتا ہے چوتھے آسمان پر مگر چمکتا ہے سارے جہان پر اسی لیے رب نے تمام جہان سے خطاب فرمایا:"لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ"پھر جیسے سورج روشنی ساری زمین پر دیتا ہے مگر پھل پھول کی پختگی باغوں کھیتوں میں کرتا ہے،لعل بناتا ہے بدخشاں کے پہاڑوں میں حضور نے ایمان سب کو دیا مگر ولایت و صحابیت کسی کسی کو۔
۷؎مدینہ منورہ کے بہت نام ہیں جن میں سے ایک نام طیبہ ہے یعنی نکھاری ہوئی صاف کی ہوئی زمین کہ رب نے یہاں کی وبا منتقل کرکے ہجر میں بھیج دیں اور اسے شفا کا گھر بنادیا،اب مدینہ کی خاک کا نام خاک شفا ہے۔
۸؎یعنی ان کے بعد ان کی خلافت مدینہ یا عراق میں رہے گی مگر ان کی سلطنت شام میں ہوگی۔چنانچہ اسلام کے پہلے سلطان حضرت امیر معاویہ کا دارالخلافہ دمشق بنا یعنی ملک شام کا ایک شہر،یہاں ملک سے مراد ملک نبوت نہیں حضور صلی الله علیہ وسلم کا ملک نبوت تو سارا جہاں ہے"لِیَکُوۡنَ لِلْعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَا"۔(مرقات)اور اگر ملک نبوت مراد ہو تو چونکہ شام میں ہمیشہ جہادوں کا زور رہا ہے اس لیے اسے خصوصیت سے بیان کیا۔
۹؎سبحان الله!نبی محمد ہیں اور امت حمادون یعنی ہر حال میں حمد الٰہی کرنے والی،ایسی پاکیزہ امت کسی نبی کو نہیں ملی۔
۱۰؎یعنی اونچے قلعوں میں رہ کر بھی الله کی عبادت کریں گے اور نیچے جھونپڑوں میں بھی۔
۱۱؎یعنی نماز اور روزوں کی وجہ سے ہمیشہ سورج کے طلوع غروب استواء کا حساب رکھیں گے اور اس کی جنتریاں چھاپا کریں گے۔ اسلامی نمازیں افطار سحری تو سورج سے ہیں مگر خود روزے عیدیں حج وغیرہ چاند سے اس لیے مسلمان دونوں کا حساب رکھتے ہیں اور کوئی قوم یہ دونوں کام نہیں کرتی۔
۱۲؎نماز پنجگانہ سواء اسلام کے کسی اور دین میں نہیں ہوئیں اس لیے اس امت کی صفات یہ بیان ہوئیں۔
۱۳؎انصافجمع ہےنصفکی بمعنی آدھا،یہاں مراد ہے جسم کا آدھا یعنی کہ مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ کمر پر تہبند پائجامہ باندھے رہیں گے،نہ تو ننگے پھریں گے،نہ ننگے رہیں گے،نہ ننگے نہائیں گے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ وہ لوگ باپردہ بہت رہیں گے ستر ڈھکے رہا کریں گے۔یا انصاف سے مراد ہے آدھی پنڈلی تبعلیٰبمعنیالیہے یعنی ان کے تہبند پائجامے ٹخنوں کے نیچے نہ ہوا کریں گے تاکہ گندے نہ رہیں بلکہ ٹخنوں سے اونچے ہوا کریں گے کہ پاک رہیں اس صورت میں یہ مسلمانوں کی پاکیزگی اور صفائی کا ذکر ہے۔(لمعات،مرقات،اشعہ)ہماری اس شرح سے یہ اعتراض اٹھ گیا کہ حضور انور نے ٹخنوں سے اوپر تک تہبند لٹکانے کی اجازت دی ہے اور یہاں نصف پنڈلی فرمایا گیا۔
۱۴؎یعنی نماز کے پابند ہوں گے اس پابندی کی وجہ سے وہ ہمیشہ نہایت مبالغہ سے وضو کیا کریں گے۔خیال رہے کہ پچھلی بعض امتوں پر بھی نمازیں فرض تھیں اور وہ لوگ وضو بھی کرتے تھے مگر مسلمانوں کی طرح پابند نہ تھے۔
۱۵؎گذشتہ امتوں میں نماز کا اعلان اذان سے نہیں ہوتا تھا کسی دین میں گھنٹے بجائے جاتے تھے،کسی میں آگ روشن کرکے نماز کی اطاع دی جاتی تھی،اذان اسلام کی خصوصیت سے ہے۔آسمانی فضا بتاکر فرمایا گیا کہ مؤذن اونچے میناروں پر اذانیں دیا کریں گے،اب لاؤڈ اسپیکر پر اذان بہت ہی لطف دیتی ہے ساری فضا ساری بستی گونج جاتی ہےسبحان الله!کبھی فجر کے وقت کی اذانیں سنو اور یہ حدیث پڑھو۔
۱۶؎یعنی مسلمانوں میں تاقیامت نمازیں باجماعت ہوتی رہیں گی اور جہاد قائم رہیں گے وہ لوگ نمازوں جہادوں میں بڑے اہتمام سے صفیں بنایا کریں گے۔نماز میں مسلمان نفس اور شیطان سے جہاد کرتا ہے جہاد میں کفار سے اس لیے یہاں نماز اور جہاد کی صفوف کا ایک جگہ ذکر فرمایا گیا۔
۱۷؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد آخری رات کی نماز ہے یعنی تہجد،وہ لوگ تہجد کی نماز میں قرأت قرآنیہ آہستہ کیا کریں گے مگر پھر بھی ان کے سینوں سے رونے کی گڑگڑاہٹ ایسی محسوس ہوگی جیسے شہد کی مکھیوں کی بنبناہٹ،یا اس سے مراد ہے آہستہ آہستہ درد والی آواز سے تلاوت قرآن اور تسبیح و تہلیل ہے،الله تعالٰی یہ علامت ہم گنہگاروں کوبھی نصیب فرمائے۔آمین
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5771