باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5747
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاةُ فَلْيُصَلِّ، وأُحِلَّتْ لِي الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَأَعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلٰى قَوْمِهٖ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عامَّةً ".(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"أعطيت خمسا لم يعطهن أحد قبلي: نصرت بالرعب مسيرة شهر وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا فأيما رجل من أمتي أدركته الصلاة فليصل، وأحلت لي المغانم ولم تحل لأحد قبلي وأعطيت الشفاعة وكان النبي يبعث إلى قومه خاصة وبعثت إلى الناس عامة ".(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھےپانچ نعمتیں وہ دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہ دی گئیں ۱؎میں ایک ماہ کے راستے سے رعب کے ذریعہ مدد کیا گیا ۲؎اور میرے لیے ساری زمین مسجداور ذریعہ طہارت بنادی گئی ۳؎کہ میری امت کے آدمی کوجس جگہ نماز آجاوے و ہ وہاں ہی پڑھ لے اور میرے لئے غنیمتیں حلال کردی گئیں مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کی گئیں۴؎اور مجھے بڑی شفاعت دی گئی ۵؎اور نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتےتھے ۶؎میں سارے انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں ۷؎(بخاری ومسلم)
شرح حدیث
۱∞؎یہاں پانچ فرمانا حصر کے لیے نہیں بلکہ اس کے معنی ہیں کہ یہ پانچ خصوصی فضیلتیں وہ ہیں جو میرے سواءکسی نبی کو نہ دی گئیں تو آئندہ کسی ولی کو ملنے کا احتمال ہی نہیں،ہزارہا خصوصیات ہیں جو حضور انور ہی کو ملیں کسی اور کو نہ ملیں۔لہذا یہ حدیث دوسری ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں اورخصوصیات کا بھی ذکر ہے۔
۲؎یعنی جو دشمن مجھ سے جنگ کرنے آئیں ابھی وہ ایک ماہ کے راستہ پر مجھ سے دور ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں میری ہیبت چھا جاتی ہے اگرچہ وہ جنگ کریں مگر مرعوب ہوکر،یہ معجزہ کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔اب بھی حضور کے روضۂ اطہر پر پہلی حاضری کے وقت زائر کے دل میں حضور کی ہیبت بہت ہی ہوتی ہے بعد میں حضور سے انس و محبت پیدا ہوجاتی ہے۔
۳؎یعنی دوسرے نبیوں کے دینوں میں نماز صرف ان کے عبادت خانوں میں ہوتی تھی گرجوں وغیرہ میں میری امت تمام روئے زمین پر جہاں چاہے نماز پڑھ سکتی ہے،ہاں بعض جگہ نماز جائز نہیں وہ کسی عارضہ سے ہے جیسے قبرستان، حمام،مذبح وغیرہ،نیز کسی دین میں تیمم نہ تھا یہ صرف میرے دین میں ہے غسل اور بے وضوئی دونوں کا تیمم زمین پر ہوسکتا ہے یہ ہماری خصوصیات میں سے ہے۔
۴؎چنانچہ پچھلے دینوں میں جہاد تھے اور ان جہادوں میں مال غنیمت بھی حاصل کیا جاتا تھا مگر یہ مال غنیمت کسی پہاڑ پر رکھ دیا جاتا تھا اگر اس میں کچھ غبن نہ ہوتا تو غیبی آگ آتی اسے کھا جاتی،اگر ذرہ بھر بھی غبن ہوتا تو آگ نہ آتی، ہمارے دین میں غنیمت کا مال مجاہدین میں تقسیم ہوتا ہے،یوں ہی قربانی کا گوشت دوسرے دینوں میں کھایا نہیں جاتا تھا بلکہ پہاڑ پر رکھ دیا جاتا تھا جسے آگ کھا جاتی تھی اسلام میں قربانی کرنے والا بھی اور دوسرے بھی کھا سکتے ہیں۔
۵؎یعنی شفاعت کبریٰ جسے شفاعت عامہ کہتے ہیں وہ صرف حضور ہی کریں گے،شفاعت صغریٰ دوسرے نبی،اولیاء الله ، اوررمضان،قرآن وغیرہ بھی کریں گے،یہاں شفاعت کبریٰ مراد ہے۔
۶؎اپنی قوم سے مراد وہ خاص قوم ہے جو ان کی امت دعوت ہوتی تھی جس پر واجب ہوتا تھا کہ ان نبی پر ایمان لائے خواہ اپنے خاندان کے لوگ ہوں یا اپنے شہر کے یا دوسرے لوگ۔لہذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں کہ ابراہیم ولوط علیہما السلام ملک شام و فلسطین کے نبی تھے یہ لوگ ان حضرات کے خاندان کے تھے نہ وطن کے۔
۷؎علماءکرام کے نزدیک اس فرمان عالی کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی نبوت کے ظہور سے لے کر قیامت تک لوگ آپ کے امتی ہیں خواہ کسی قوم کے ہوں کسی جگہ کے ہوں کسی وقت میں ہوں۔صوفیاءکرام کے نزدیک از آدم علیہ السلام تا روز قیامت سب حضور کے امتی ہیں حتی کہ گذشتہ انبیاءکرام بھی،ہاں وہ قومیں بالواسطہ امتی تھیں ہم لوگ بلاواسطہ اس لیے سارے نبیوں سے حضور پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا"وَ اِذْ اَخَذَ اللهُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ"اور نبیوں نے حضور کے پیچھے معراج میں محمدی نماز پڑھی۔یہاں تو یہ ہے کہ ہم سارے انسانوں کی طرف بھیجے گئے،آگے آرہا ہے کہ ساری مخلوق کی طرف بھیجے گئے جس کا رب اللہ ہے اس کے نبی حضور ہیں،الله تعالٰی رب العلمین ہے حضور رحمۃ للعالمین۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5747