Main Icon

باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5744

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مَا صُدِّقْتُ وَإِنَّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيًّا مَا صَدَّقَهٗ مِنْ أُمَّته إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أنا أول شفيع في الجنة لم يصدق نبي من الأنبياء ما صدقت وإن من الأنبياء نبيا ما صدقه من أمته إلا رجل واحد » . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت کے بارے میں ہم پہلے شفاعت کرنے والے ہیں ۱؎کسی نبی کی تصدیق اتنی نہ کی گئی جتنی میری تصدیق کی گئی ۲؎نبیوں میں بعض نبی وہ ہیں جن کی کسی نے بھی ان کی امت سے تصدیق نہ کی سوا ایک کے۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو لوگ اعمال سے جنت کے قابل نہ ہوں گے ان کی شفاعت کرکے انہیں جنت میں داخل کروں گا۔فی الجنۃسے پہلےدخولہمپوشیدہ ہے یعنی جنت کے داخلہ کے بارے میں ورنہ جنت میں پہنچنے کے بعد شفاعت کیسی۔(از مرقات)یا یہ مطلب ہے کہ جنت کے قابل جو لوگ ہوں گے اور ان کی شفاعت فرماؤں گا۔ترقی درجات کے متعلق کہ نیچے والوں کو اونچا کردیا جاوے تبدرجاتپوشیدہ ہےفی درجات الجنۃ۔۲؎اس فرمان عالی کے دو معنی ہیں: ایک یہ کہ جتنے زیادہ لوگوں نے مجھ پر ایمان قبول کیا اتنے لوگ کسی اور نبی پر ایمان نہیں لائے یہ بالکل ظاہر ہے کیونکہ دوسرے نبی کسی خاص قوم کے نبی ہوتے تھے حضور انور سارے جہان کے نبی ہیں،نیز اور نبیوں کا زمانہ نبوت محدود تھا حضور کی نبوت تا قیامت ہے۔دوسرے یہ کہ جس قسم کی تصدیق میری کی گئی اس درجہ کی تصدیق کسی نبی کی نہیں کی گئی،میری امت مجھ پر دل وجان سے فدا ہے اور ہوگی۔یہ عشق سوزو گدازکسی اور امت کو نہیں ملا۔(اشعۃ اللمعات)
۳
؎یہ عبارت جملہ اول کے پہلے معنی کی تائید کرتی ہے۔یعنی میری امت دوسرے نبیوں کی امت سے زیادہ ہے۔نوح علیہ السلام نے ساڑھے نوسو سال تبلیغ فرمائی مگر صرف اسّی آدمی ایمان لائے آٹھ آدمی اپنے گھر کے بہتّر آدمی دوسرے،حضور نے تئیس سال تبلیغ فرمائی دیکھ لو آج تک کیا حال ہے،نوح علیہ السلام کے بارے میں رب فرماتاہے: "وَمَاۤ اٰمَنَ مَعَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلٌ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5744