Main Icon

باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5756

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يَجْمَعَ اللّٰهُ عَلٰى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيْفَيْنِ: سَيْفًا مِنْهَا وَ سَيفًا مِنْ عَدُوِّهَا " رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن عوف بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لن يجمع الله على هذه الأمة سيفين: سيفا منها و سيفا من عدوها " رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہ اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں کبھی جمع نہیں فرمائے گا ایک تلوار اس کی اپنی اور دوسری تلوار اس کے دشمن کی ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎عمومًا دیکھا گیا ہے کہ اولًا تو مسلمان لڑتے بھڑتے رہتے ہیں مگر جب کفار کا حملہ ہوجاتا ہے تو سب یکدم متفق ہو جاتے ہیں۔۶ ستمبر ۱۹۶۵ء؁∞ میں بھارت نے بڑی قوت سے اچانک پاکستان پر ڈھائی بجے رات کے حملہ کردیا اللہ تعالٰی نے اس جنگ میں مسلمانوں کو ایسا متفق کردیا کہ یہ لڑنا بھڑنا بھول گئے اور جب اللہ کے فضل سے ہم نے جوابی کاروائی کی تو بھارت کے دانت کھٹے کردیئے ان کے چھ سو ٹینک،بیس ہزار فوج تباہ کردی آخر وہ صلح پر مجبور ہوگئے،سترہ دن جنگ ہوئی اگر کچھ دن جنگ اور رہتی توان شاءاللهبہت فتح مسلمان پاتے،بڑی طاقتوں نے بیچ میں پڑکر صلح کرادی۔یہ ہے اس فرمان عالی کا ظہور کفار جب کبھی مسلمانوں پر غالب آجاتے ہیں اس کی وجہ ہماری غلطیاں ہماری غفلت ہماری اسلام سے دوری ہوتی ہے،اللہ رسول سچے ہیں مگر ہم جھوٹے ہوجاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5756